ہزاروں جائیدادیں مخلوعہ، یونیورسٹیوں میں اضافہ

   


سرکاری ادارے فروخت، خانگی شعبہ کو فروغ، ریاستی و مرکزی حکومت پر کانگریس کا شدید ریمارک

نظام آباد :24؍ ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع کانگریس کمیٹی کی تشکیل جدید کے بعدآج پہلی مرتبہ ضلع کانگریس کمیٹی کا ایک اجلاس صدرضلع کانگریس موہن ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہو ئے سابق ریاستی وزیر سدرشن ریڈی ، ضلع کانگریس صدر موہن ریڈی ، پردیش کانگریس کے نائب صدر طاہر بن حمدان و دیگر قائدین نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں ضلع کی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے تھے اور ضلع میں تلنگانہ یونیورسٹی ، میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور طلباء کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کیلئے بیرونی ملک میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو روپئے بھی دئیے گئے تھے کانگریس کے دور حکومت میں شروع کردہ فیس ریمبرسمنٹ اسکیم سے ہزاروں طلباء کو فائدہ حاصل ہوا، موجودہ حکومت فیس ریمبرسمنٹ کی ادائیگی سے گریز کررہی ہے ۔ تلنگانہ یونیورسٹی میں مخلوعہ جائیدادیں اور میڈیکل کالج میں مخلوعہ جائیدادوں کی بھرتی سے بھی گریز کیا جارہا ہے یونیورسٹی کے اضافہ سے عام آدمی پر بوجھ عائد ہوا ہے مرکزی برسراقتدار حکومت کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچارہی ہے اور خانگی شعبہ کو فروغ دینے کی غرض سے سرکاری اداروں کو فروخت کررہی ہے اس بات پرعوام میں شعور بیدار ہونے ضروری ہے ۔ مرکزی حکومت عوام کو گمراہ کرتے ہوئے نفرت کی سیاست کراتے ہوئے ہندو مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کررہی ہے راہول گاندھی کی بھارت جوڑوں یاترا 3 ہزار کلو میٹر تک تک آگئی ہے اور یاترا کے آخری دن 26؍جنوری سے 26؍ مارچ تک ملک میں ہاتھ پہ ہاتھ جوڑوپروگرام کو دیہی سطح تک انجام دیا جارہا ہے ۔ مسٹر سدرشن ریڈی نے ، طاہر بن حمدان نے کہا کہ کانگریس ہی واحد پارٹی ہے جو ملک کو مستحکم رکھ سکتی ہے۔