ہزاروں کلومیٹرس پیدل سفر،غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں

   

نئی دہلی۔31 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جنہوں نے گھروں ، دفاتر ، یہاں تک کہ شہروں کی تعمیر کی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کیا۔ انہوں نے کھانا پکایا جو ہم نے کھایا ، سڑکوں کو صاف کیا جن پر ہم سفر کرتے ہیں لیکن اب ان میں سے بہت سارے ایسے افراد ہیں جوکہ چلچلاتی دھوپ میں چل رہے ہیں۔ ان کے پاؤں پر چھالے ہیں ، اور ان کے کندھوں پر بیگ اور بچوں کا وزن ہے۔ایسے کئی افراد دہلی کے آنند وہار بس ٹرمینل پر ہیں۔ وہ یوپی میں یمن ایکسپریس وے پر ہیں۔ ایم پی میں چمبل پل پر ہیں۔ قومی شاہراہوں پر ہیں۔ اسٹیٹ ہائی ویز پرہیں کیونکہ وہ گھر جا نا چا ہتے ہیں۔ ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ مرکز اور ریاست میں ، 14 دن تک کا قرانطینہ ہے۔جب ہندوستان لاک ڈاؤن کے دوسرے ہفتہ میں داخل ہوا تو میڈیا نمائندوں نے چار ریاستوں کا سفر کیا تاکہ ان بے یارومددگار افراد کے پیدل سفر کی تفصیلات حاصل کی جاسکے۔ یامونا ایکسپریس وے کے زیرو پوائنٹ پر ستیندر سنگھ انتظار سے تھک چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوئیڈا میں اپنے کرائے کی چھونپڑی سے صبح 2.30 بجے انہوںنے چلنا شروع کیا ، جس موبائل فون کمپنی کے لئے وہ کام کرتا تھا وہ کمپنی بند ہے۔ تنخواہ کے بغیر کرایہ برداشت نہیں کیا جا سکتا اور میں جلد ہی پیسہ ختم ہوجائے گا یہ کہہ کر اسی طرح چلنا شروع کیا۔ انہوں نے ہائی وے پر اسپیڈ کیمروں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ کیا وہ ریکارڈ کرسکتے ہیں کہ میں کتنی تیزی سے چل رہا ہوں؟۔متھرا کے مضافات میں ،ایک خاندان پولیس پوسٹ کے راستے میں بیٹھا ہے۔ اسی طرح 30 افراد کا ایک گروپ ٹرک کے پچھلے حصے پر سوار ہے جہاں سانس لینا بھی مشکل ہے۔ اس وقت شمالی ریاستوں میں ایسے مناظر دکھائی دے رہے ہیں جو کہ حکومت کی فیصلہ سازی میں کئی نقائص کو عیاں کررہے ہیں۔