ہزارہ برادری میں قبروں پر تصاویر لگانے کا رجحان

   

اسلام آباد۔ 7 فروری (ایجنسیز) پاکستان میں قبروں پر نام، ولدیت اور تاریخِ وفات لکھنا ایک قدیم روایت ہے، مگر کوئٹہ کی ہزارہ برادری میں قبروں پر تصاویر لگانے کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہ منفرد روایت کیسے شروع ہوئی؟ اپنے پیاروں کو یاد رکھنے کے لیے ہزارہ کمیونٹی میں انوکھے اور منفرد رسم و رواج عام ہیں۔ علمدار روڈ پر واقع کوئٹہ کا بہشتِ زینب قبرستان موت کی خاموشی سے زیادہ زندگی کی چہل پہل کا منظر پیش کرتا ہے۔ کچی پکی قبروں کے درمیان بلند و بالا سرخ، سبز اور سیاہ پرچم، فٹبال کھیلتے بچے، واک کرتے بوڑھے، ریڑھی والے، ان سے خریداری کرتی عورتیں، اِس احاطے کو قبرستان سے زیادہ ایک آباد عوامی جگہ کا روپ دیتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ہزارہ سے تعلق رکھنے والے محقق مرزا آزاد کہتے ہیں کہ ہزارہ برادری کے لیے قبرستان ایک خاموش اختتام نہیں بلکہ یاد، محبت اور تعلق کا رواں دواں سلسلہ ہے۔ اسی لیے یہاں موت کے سکوت کی بجائے زندگی کی ہنگامہ خیزی نظر آتی ہے۔ قبرستان میں زندگی یا موت کا ایک منفرد روپ تصویری کتبے یا عام کتبوں کے ساتھ الگ سے فریم کی ہوئی تصاویر ہیں۔