ہلدوانی فسادات کے ملزمین کے کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

   

نینی تال : اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ہفتہ کو ہلدوانی فسادات کے ملزمین کے کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ ہلدوانی فسادات کے 55 ملزمان کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس میں ان کی حراست میں 90 دن کے بعد توسیع کی گئی تھی اور پہلے سے ڈی فالٹ بیل (ضمانت) کو خارج کر دیا گیا تھا۔ ان درخواستوں کی سماعت جسٹس منوج کمار تیواری اور جسٹس پنکج پروہت کی ڈبل بنچ میں ہوئی۔ ملزمان کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے ان کی تحویل میں توسیع کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہا گیا کہ ان کی تحویل کی ضرورت کیوں پڑی۔ ملزمان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ تفتیشی افسر کے لیے 90 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کرنا ضروری تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس حکومت نے نچلی عدالت سے ان کی حراست میں توسیع کی مانگ کی اور ٹرائل کورٹ نے ان کی تحویل میں توسیع کے احکامات دے دیئے ۔ اس کے علاوہ ٹرائل کورٹ نے ان کی ڈیفالٹ ضمانت بھی مسترد کر دی ۔ قواعد کے مطابق اگر چارج شیٹ 90 دنوں کے اندر داخل نہیں کی جاتی ہے ، تو وہ ضمانت کے حقدار ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ حراست میں قواعد کے مطابق توسیع کی گئی ہے ۔ حکومت کے پاس اس کی کافی وجوہات ہیں۔ حکومت نے قواعد کے مطابق حراست میں اضافے کی مانگ کی۔ نیز عدالت کو حراست میں توسیع کا حق حاصل ہے ۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے بعد کی چارج شیٹ 150 دنوں کے اندر جمع کردی تھی۔