ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، امریکی فوج کی کوئی نقل وحرکت نہیں:عراقی فوج

   

بغداد: عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان یحییٰ رسول نے منگل کو اپنے ملک کی سرزمین میں کسی بھی امریکی فوجی نقل و حرکت کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف ایک معمول کی تبدیلی کا عمل ہے۔ بیانات میں رسول نے کہا کہ حال ہی میں جو فوجی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے وہ شام میں امریکی افواج کو تبدیل کرنے کا عمل ہے اور میرے خیال میں یہ ایک امریکی پہاڑی فوجی ڈیویژن تھی۔ یہ امریکی فوجی نقل وحرکت شام کیلئے تھی عراق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان نے مغربی عراق کے صوبہ الانبار میں عین الاسد ایئر بیس پر امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے فوجی مشیروں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ “ان مشیروں کا مشن عراقی فوجیوں کو تربیت دینا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔ ہمارے پاس تربیت یافتہ امریکی فوجی ہیں جو اس اڈے پر تربیت دیتے ہیں۔ رسول نے زور دیا کہ امریکی افواج اور بین الاقوامی اتحاد تقریباً ہر نو ماہ یا ایک سال میں عراق اور شام میں اپنی افواج کو تبدیل کرنے کا عمل انجام دیتے ہیں۔ عراقی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالامیر یار اللہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عراقی سکیورٹی وفد گذشتہ ہفتے کے روز عین الاسد اڈے پر پہنچا تھا تاہم ایجنسی نے فوجی اڈے کے دورے کی وجوہات اور اس کے مقاصد کا ذکر نہیں کیا۔