ہمارے بس کی بات نہیں ! تعمیرات اور لے آوٹس کی منظوری کے اختیارات پر ضلع کلکٹرس کا خیال

   

Ferty9 Clinic

موجودہ اختیارات ، اسکیمات اور ترقیاتی پروگرامس کا کافی بوجھ
اجازت کے معاملہ میں تجربہ کا فقدان
درکار عملہ کی فراہمی میں حکومت کی لاپرواہی
ایچ ایم ڈی اے اور ڈی ٹی سی پی کو دوسرے اختیارات
بے بسی کا اظہار کررہے ہیں کلکٹرس ، اجازت کے بعد جانچ بھی مشکل
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : عمارتوں کی تعمیر اور لے آوٹ کی منظوری کی اجازت جیسے اقدامات میں ضلع انتظامیہ بے بسی کا شکار بن گیا ہے ۔ ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں ضلع کلکٹرس کی جانب سے غیر یقینی ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے ۔ موجودہ اختیارات کی انجام دہی اور اقدامات کو پورا کرنے پہلے ہی سے تذبذب کا شکار انتظامیہ اب نئی پالیسیوں سے بے بسی کا اظہار کررہا ہے ۔ ایک طرف نئی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں عملہ کی کمی اور پالیسیوں پر تجربہ کا فقدان ایک اہم وجہ بن گئی تو دوسری طرف لے آوٹس اور تعمیرات کی منظوری کیلئے جانچ اور تحقیق بھی عملہ کی کمی کے باعث بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ ضلع انتظامیہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے عملاً ان خدمات سے انکار کے در پر آگئے ہیں ۔ ریاست بھر میں پنچایت سطح سے میونسپالٹیز ، میونسپل کارپوریشن حدود میں تعمیرات کی اجازت ، لے آوٹس کی منظوری کے اختیارات کو حالیہ دنوں حکومت نے ضلع کلکٹرس کے حوالے کیا ۔ اس سے قبل اس کی ذمہ داری حیدرآباد میٹرو ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ( ایچ ایم ڈی اے ) کے ساتھ ڈائرکٹر ٹاون اینڈ کنٹری پلاننگ ( ڈی ٹی سی پی ) شعبہ کے سپرد تھی ۔ حالیہ اقدامات کے تحت ٹی ایس بی پاس قانون کے ذریعہ ان اختیارات کو ضلع کلکٹرس کے حوالے کردیا گیا ۔ ان اختیارات کو بڑھانے اور کم کرنے کے ساتھ ڈی ٹی سی پی اور ایچ ایم ڈی اے کیلئے ماسٹر پلاننگ ، لینڈ پولنگ پر توجہ مرکوز کرنے کے اختیارات دے دئیے گئے ۔ ایچ ایم ڈی اے اور ڈی ٹی سی پی کے تعاون کے بغیر نئی ذمہ داری کو آسانی سے انجام دینے میں کافی مشکلات و ناممکن حالات کی رائے حکومت کو پیش کی گئی ۔ ضلع کلکٹرس فی الحال ترقیاتی کاموں کی انجام دیہی اور اس پر نگرانی میں کافی مصروف ہیں ۔ جس کے ساتھ ریونیو کے امور بھی انہی کی ذمہ داری ہیں ۔ اسکے علاوہ حکومت کی نئی پالیسیاں اور اسکیمات پر عمل آوری دلت بندھو کی توسیع اور اس پر عمل آوری کی ذمہ داریاں بھی ضلع کلکٹرس کے ذمہ رہیں گی ۔ ان معاملات کو انجام دیتے ہوئے تجربہ کا فقدان رکھتے ہوئے تعمیرات اور لے آوٹس کی منظوری دینا ضلع کلکٹرس کیلئے سر درد بن گیا ہے ۔ چند کلکٹرس کا کہنا ہے کہ ایچ ایم ڈی اے اور ڈی ٹی سی پی عملہ کے اقدامات بغیر تجربہ کے اس قدر دباؤ میں انجام دینا مشکل ہے ۔ اس کے علاوہ نئے اختیارات کی عمل آوری کیلئے درکار عملہ کو بھی تاحال مختص نہیں کیا گیا ۔ ان حالات میں ایچ ایم ڈی اے اور ڈی ٹی سی پی کے عملہ کو کلکٹرس سے رجوع کرنے کے مواقع موہوم ہوچکے چونکہ ان محکموں کو سرکاری اراضیات پر لے آوٹس ، ماسٹر پلاننگ اور لینڈ پولنگ کی ذمہ داری دی گئی جب کہ ماسٹر پلاننگ پر تربیت کیلئے مذکورہ محکموں کے عہدیدار ہر سال احمد آباد روانہ ہوتے ہیں ۔ تجربہ کار عملہ کو ہی بہر حال تربیت کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر غیر تجربہ کار عملہ ان خدمات کو کس طرح انجام دے سکتا ہے ۔ کلکٹر کے سپرد اختیارات سے مستقبل میں کئی مسائل پیدا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔