ہمارے پاس بھلے ہی اقتدار نہیں مگر کانگریس کی ریڑھ سیدھی ہے:کھرگے

,

   

Ferty9 Clinic

کانگریس نے مذہب کے نام پر کبھی ووٹ نہیں مانگا‘پارٹی کے140ویں یومِ تاسیس پر صدر کانگریس کا خطاب

نئی دہلی ۔28؍ڈسمبر ( ایجنسیز )ہندوستان کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس نے اپنا 140واں یومِ تاسیس جوش و خروش کے ساتھ منایا۔ اس موقع پر دہلی کے اندرا بھون میں منعقدہ تقریب میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے قومی پرچم لہرایا۔ پروگرام میں سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پارٹی کے متعدد سینئر رہنما شریک ہوئے۔ تقریب کے دوران کانگریس کی طویل جدوجہد، آزادی کی تحریک میں اس کے کردار اور جمہوری اقدار کے لیے دی گئی قربانیوں کو یاد کیا گیا۔یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے کہا کہ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کانگریس ختم ہو چکی ہے انہیں صاف پیغام ہے کہ پارٹی اقتدار میں نہ بھی ہو تو اس کی ریڑھ سیدھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کبھی آئین، سیکولرزم اور عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ آئندہ کرے گی۔کھرگے نے زور دے کر کہا کہ کانگریس نے کبھی مندر اور مسجد کے نام پر سیاست یا ووٹ مانگنے کا سہارا نہیں لیا۔ ان کے مطابق کانگریس نے ہمیشہ مذہب کو ذاتی عقیدہ مانا جبکہ موجودہ حکمراں جماعت نے اسے سیاسی ہتھیار بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سماج کو بانٹنے کی سیاست کرتی ہے جبکہ کانگریس جوڑنے پر یقین رکھتی ہے۔کانگریس صدر نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کے پاس اقتدار تو ہے مگر سچ نہیں۔ اسی لیے وہ حقائق کو چھپاتے ہیں، مردم شماری نہیں کراتے اور آئین بدلنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ تاریخ پر لیکچر دیتے ہیں ان کے آباؤ اجداد تاریخ سے فرار اختیار کرتے رہے ہیں۔کھرگے نے کہا کہ کانگریس صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جدوجہد اقتدار کیلئے نہیں بلکہ ملک کی روح، آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سچ ہمیشہ جیتتا ہے چاہے اس کے ساتھ اکثریت نہ بھی ہو۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے گیارہ برسوں میں موجودہ حکومت نے قوانین میں تبدیلی کر کے چند سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا۔ کھرگے نے سونیا گاندھی کے دورِ قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسی زمانے میں اطلاعات کا حق، تعلیم کا حق، غذائی تحفظ قانون، منریگا اور زمین حصول قانون جیسے تاریخی اقدامات کیے گئے۔
واضح رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کے بعد ہندوستان نے دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی کارروائیاں کرتے ہوئے آپریشن سندور کا آغاز کیا تھا۔اس انتہائی خفیہ مہم کے تحت ہندوستان نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں واقع دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر درست حملے کئے تھے ۔