ہماچل پردیش میں نئی حکومت کی حلف برداری تقریب

,

   

کابینہ کے پہلے اجلاس میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پوراکرنے کا عزم

شملہ: ہماچل پردیش میں نئی حکومت کی شکیل عمل میں آئی ہے۔ شملہ کے تاریخی ریج میدان میں کانگریس پارٹی کی نئی حکومت کی حلف برداری تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ گورنر آر وی ارلیکر نے58سالہ سکھویندر سنگھ سکھو کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ ساتھ ہی مکیش اگنی ہوتری نے بھی ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ ریاستی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ہی عوام کو سوغات ملنے والی ہے، یہ خوشخبری خود نائب وزیر اعلی مکیش اگنی ہوتری نے دی۔ڈپٹی سی ایم مکیش اگنی ہوتری نے ریج گراؤنڈ میں حلف لینے کے فوراً بعد اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم کابینہ کے پہلے اجلاس میں عوام سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کریں گے۔ پرانی پنشن اسکیم بحال کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پہلے لوگ کہتے تھے کہ کانگریس کسی بھی ریاست میں اقتدار میں نہیں آئے گی لیکن ہم نے بی جے پی کے ‘رتھ’ کوروک دیا ہے!۔وہیں، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے کہا کہ کابینہ کی توسیع کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کون سی گارنٹی اسکیم پہلے لاگو کی جائے گی۔ انہوں نے کہا ’’ہماری حکومت نے 10 گارنٹی اسکیمیں دی ہیں اور کانگریس پارٹی ان تمام اسکیموں کو نافذ کرے گی۔‘‘وہیں، حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی کہا کہ ان کی پارٹی نے انتخابات کے دوران جو بھی وعدے کیے ہیں انہیں پورا کیا جائے گا۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا ’’ہم سب بہت خوش ہیں۔ ہم نے جو بھی وعدہ کیے ہیں، ہم اسے جلد از جلد پورا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ تفصیلات کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر اور 4 بار کے ایم ایل اے سکھویندر سنگھ سکھو نے ہماچل پردیش کے 15 ویں وزیر اعلی کے طور پر آج حلف لیا۔ اس دوران کابینہ کے کچھ وزراء نے بھی حلف لیا۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے بھی سکھوند سنگھ سکھو کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کی جیت ہے۔ یہ ایک مثال ہے جب کانگریس پارٹی نے متحد ہو کر الیکشن لڑا اور جیتا۔ کانگریس کو جیت دلانے کے لیے میں ہماچل پردیش کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ حلف برداری کی تقریب میں سابق مرکزی وزیر آنند شرما، ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا، ہماچل پردیش کانگریس کے انچارج راجیو شکلا، ریاستی کانگریس صدر پرتیبھا سنگھ اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔