بیجنگ : چین نے کہا ہے کہ پابندیاں مسائل کے حل کا بنیادی اور موئثر راستہ نہیں ہیں۔چین نے، روس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں چین کے خلاف جوابی اقدامات کی، امریکی وارننگ پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان کاو لیجیان نے کل جاری کردہ بیان میں وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی کے پابندیوں سے متعلق الفاظ کا جواب دیا ہے۔لیجیان نے کہا ہے کہ “پابندیاں مسائل کے حل کا موئثر راستہ نہیں ہیں۔ چین، ہر طرح کی یک طرفہ پابندیوں اور امریکہ کے سرحد پار حاکمانہ اختیار استعمال کرنے کے خلاف ہے”۔انہوں نے کہا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ کو مسئلہ یوکرین اور روس کے ساتھ باہمی تعلقات پر غور کے دوران چین کے خدشات کو دھیان میں رکھنا چاہیے اور چین کے حقوق اور مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ترجمان کاو لیجیان نے کہا ہے کہ ہم چینی شہریوں اور فرموں کے جائز حقوق اور مفادات کے مصّمم تحفظ کے لئے تمام ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کریں گے۔واضح رہے کہ وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کل جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین نے ابھی تک روس پر عائد پابندیوں پر عمل شروع نہیں کیا۔ پابندیوں کی خلاف ورزی امریکہ کی طرف سے جوابی اقدامات کا سبب بن سکتی ہے۔