ہم راہول گاندھی کے تبصرے کی حمایت نہیں کرتے : امریکہ

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن؍نئی دہلی : امریکہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے اس تبصرہ کی حمایت نہیں کرتا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔گزشتہ روز جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے راہول گاندھی کے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مذکورہ باتیں کہیں۔انہوں نے کہاکہ میں چاہوں گا کہ پاکستان اور چین اپنے تعلقات پر تبصرہ کریں۔ میں یقینی طور پر اس بیان کی حمایت نہیں کروں گا۔قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے راہول نے کہا تھا کہ مودی حکومت کا واحد بڑا سٹریٹجک ہدف پاکستان اور چین کو الگ رکھنا ہے ، لیکن وہ اس کے بجائے ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ یہ نہیں سمجھتے ، آپ نے پاکستان اور چین کو قریب لایا ہے اور یہ ہندوستان کے لوگوں کے خلاف بہت بڑا جرم ہے ۔ترجمان پرائس سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور چین قریب آچکے ہیں اور کیا آپ کو لگتا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے امریکا کو کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی سہولتیں امریکہ کی طرف سے امریکہ کے اتحادیوں کو فراہم کی جاتی ہیں جو انہیں چین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے پر نہیں ملیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کو امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب بات امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ہو تو ہم اقوام کے سامنے متبادل رکھتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر وہ امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو فائدہ مند سمجھتے ہیں تو ممالک کو اس کے ساتھ آنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر ہے ۔ حکومت پاکستان کے ساتھ ہمارے اہم تعلقات ہیں۔ ایک ایسا رشتہ جس کی اہمیت ہم ہر محاذ پر سمجھتے ہیں۔