دراندازی کیلئے موسم سرما موزوں ، فوج کی اضافی چوکسی۔ کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر گولہ باری، ایک خاتون زخمی
سری نگر: بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرل راکیش استھانا نے کہا ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے سرحدوں پر دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے اور کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں اور کسی بھی چلینج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔موصوف نے یہ باتیں جمعرات کو یہاں ایک سپورٹس تقریب کے حاشیے پر نامہ نگاروں کو بتائیں۔ان کا کہنا تھا: ‘لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر صورتحال قابو میں ہے ، یہ دراندازی کے لئے موزوں موسم ہے لیکن ہم در اندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے تیار ہیں’۔ استھانا نے کہا کہ ہم ملک کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں اور اس کے لئے کسی بھی چلینج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج صبح جموں کے نگروٹہ علاقے میں چار جنگجوؤں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکورٹی فورسز کس قدر چوکس اور تیار ہیں۔موصوف نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ہم جن لوگوں کے لئے کام کرتے ہیں ان کی خوشی کا حصہ بھی بنیں اور ان کے حوصلوں کو بھی مزید تقویت دیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے مختلف کھیل سرگرمیوں کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ استھانا نے کہا کہ ہم سرحدی علاقوں کے لوگوں کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کرنے میں بھی کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں آج ٹنگڈار میں ہماری طرف سے ایک میڈیکل کیمپ کا انعقاد ہو رہا ہے ۔جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر چہارشنبہ اور جمعرات کی درمیانی شب ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوگئی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ضلع کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد کے منیاری، سپوال اور کرول کرشنا علاقوں میں بدھ کی شام دیر گئے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری شروع کر دی جس کا سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے کی جانے والی اس گولہ باری سے منیاری علاقے میں ایک خاتون زخمی ہوگئی۔ذرائع نے بتایا کہ وہاں موجود بھارتی فوجی جوانوں نے حملوں کا بھرپور جواب دیا۔انہوں نے بتایا کہ گولہ باری سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ضلع کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر منگل اور بدھ کی شب بھی اسی علاقے میں گولہ باری کا تبادلہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں کچھ رہائشی ڈھانچوں کو جزوی نقصان اور چند مویشی زخمی ہوئے تھے ۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی جموں و کشمیر کے سرحدوں پر طرفین کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے ۔جموں و کشمیر کی سرحدوں پر طرفین کے درمیان گذشتہ تین برسوں کے دوران زائد از ساڑھے آٹھ ہزار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔وزارت امور داخلہ نے جموں کے ایک کارکن کی طرف سے دائر ایک آر ٹی آئی کے جواب میں انکشاف کیا ہے کہ یکم جنوری 2018 سے سال رواں کے ماہ جولائی تک جموں و کشمیر میں سرحدوں پر پاکستان نے 8 ہزار 5 سو 71 بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔
