کراکس ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ونیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے پیر کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی کارروائی سے نہیں ڈرتے۔ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ موصوف دیگر علاقائی دوست ممالک کے ساتھ ونیزویلا پر فوجی کارروائی کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ اپنے ایک ٹیلیویژن خطاب میں جہاں ان کے اردگرد مسلح افواج کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے، مادورو نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم تشدد نہیں چاہتے، ہم دہشت گردی نہیں چاہتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی فوجی کارروائی سے ڈرتے ہیں۔ ہم کسی بھی فوجی کارروائی سے نہیں ڈرتے بلکہ ہم آپ سب کو امن و امان کی طمانیت دیتے ہیں۔ ٹرمپ ونیزویلا کو ترنوالا سمجھتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ونیزویلا پر آسانی سے فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے جس کیلئے انہوں نے اپنی کچھ ہمنوا فوج کو جمع کر رکھا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ امریکہ ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 2018ء کے انتخابات میں نکولس مادورو کے دوبارہ صدر بننے کو انتخابی دھاندلی قرار دیا تھا اور اپوزیشن قائد جوان گوائیڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کیا تھا جبکہ مادورو کو ترکی، روس، چین اور کیوبا کی حمایت حاصل ہے۔