ہم نے کرفیو سے پاک تلنگانہ دیا، فی کس آمدنی میں تین گنا اضافہ : کے ٹی آر

   

میڈیکل کالجس کا جال، سرکاری ملازمتوں کی فراہمی ہمارا کارنامہ

حیدرآباد ۔ 28 اکٹوبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں ریاست تلنگانہ کرفیو اور خشک سالی سے پوری طرح پاک ہے۔ ہر طرف خوشحالی ہے۔ تمام شعبے ترقی کی طرف گامزن ہے۔ تلنگانہ کی فی کس آمدنی ایک لاکھ 14 ہزار سے بڑھ کر 3 لاکھ 17 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ عوام کو مکمل مذہبی آزادی ہے۔ کسی بھی طبقہ سے کوئی جانبداری نہیں ہے۔ حیدرآباد بشیر باغ کے پریس کلب میں منعقد کردہ صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر کا دوراقتدار فلاحی اسکیمات کی جنت میں تبدیل ہوگیا ہے۔ ترقی اور بہبود کے معاملے میں ریاست تلنگانہ ملک بھر میں سرفہرست ہے۔ ریاست کو مقروض کردینے کا الزام بے بنیاد ہے۔ قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کے اثاثہ جات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تمام قرض آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات، مشن بھاگیرتا اسکیم پر خرچ کیا گیا ہے۔ مشن بھاگیرتا اسکیم کے ذریعہ ریاست کے گھر گھر کو نلوں کے ذریعہ پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ برقی شعبہ میں اصلاحات لانے کیلئے قرض حاصل کیا گیا، جس سے برقی کی پیداوار میں تین گنا اضافہ کیا گیا۔ عوام کو 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہ ہورہی ہے۔ شہری و دیہی علاقوں کو مساوی ترقی دی گئی۔ سرسبز و شاداب کو 7.7 فیصد تک توسیع دی گئی۔ آئی ٹی شعبہ کی ترقی میں حیدرآباد نے بنگلور کو پیچھے چھوڑ دیا۔ چاول کی پیداوار میں تلنگانہ ملک کی سرفہرست ریاست بن گئی۔ علحدہ تلنگانہ سونیا گاندھی تشکیل نہیں دی۔ ہم نے قربانیوں کے ذریعہ زبردستی حاصل کیا بلکہ تلنگانہ تشکیل دینے کا وعدہ کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے دھوکہ دیا۔ کانگریس کے 10 سالہ دورحکومت میں ہر سال صرف 1000 ملازمتیں دی گئی جبکہ ہم نے ایک لاکھ 32 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کی۔ مزید 90 ہزار ملازمتیں مختلف مرحلوں میں ہے۔ ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج قائم کرنے کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے کام کیا جارہا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں میں نہ ترقی ہے اور نہ ہی تلنگانہ جیسی فلاحی اسکیمات ہیں۔ تلنگانہ کے عوام ان دونوں جماعتوں پر ہرگز بھروسہ نہیں ہے۔ بی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور تیسری مرتبہ بی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ن