واشنگٹن : امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکہ ان ملکوں کے ساتھ کھڑا ہے جو چین کے ڈرانے دھمکانے کے رویے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات انڈوپیسیفک ریجن میں ان دوطرفہ مذاکرات کے آغاز میں کہی جن کا مقصد بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنا ہے۔ آسٹن اور امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والے دو طرفہ سالانہ اجلاس سے قبل جمعرات کو آسٹریلیا کے شہر برسبن پہنچے تھے۔ یہ اجلاس آسٹریلیا کوجوہری ٹیکنالوجی سے لیس امریکی آبدوزوں کا ایک فلیٹ فراہم کرنے کے ایک معاہدے پر مرکوز ہیں۔ آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ ایک سہ فریقی دفاعی معاہدے AUKUS کے فریق ہیں۔ آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس کے ساتھ ایک میٹنگ سے قبل آسٹن نے کہا کہ دونوں ملکوں کو چین کی جانب سے ان بین الاقوامی قوانین اور اصولوں سے انحراف پر تحفظات ہیں جو تنازعوں کو پر امن طریقہ سے اور کسی دباؤ کے بغیر حل کرتے ہیں۔ انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کا حوالہ دیتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا ، ہم پیپلز ری پبلک آف چائنا ، PRC کا مشرقی بحیرہ چین سے جنوبی بحیرہ چین اور یہاں جنوب مغربی پیسیفک تک ڈرانے دھمکانے کا رویہ دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ، ہم اس رویے کا مقابلہ کرنے والے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی مدد جاری رکھیں گے۔ چین نے حالیہ برسوں میں آسٹریلیا کی برآمدات پر، جن میں کوئلہ ، شراب ، جو، گائے کا گوشت ، سی فوڈ اور لکڑی شامل ہیں، متعدد سرکاری اور غیر سرکاری تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں۔
