نئی دہلی ۔ یکم ؍ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سال نو کا جشن منایا گیا لیکن قومی دارالحکومت کے مختلف حصوں میں ترمیم شدہ قانون شہریت کے خلاف احتجاج ماند نہیں پڑے ۔ شاہین باغ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور انڈیا گیٹ پر احتجاجیوں نے بڑی تعداد میں جمع ہوکر دستور کا دفاع کرنے کا عہد کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ جو دہلی میں مخالف سی اے اے احتجاجوں کا مرکز بن چکا ہے، وہاں متعدد اسٹوڈنٹس اور سیول سوسائٹی ممبرس نے ترنگا لہراتے ہوئے یونیورسٹی کے باہر اپنا احتجاج درج کرایا۔ بالی ووڈ ایکٹر سورا بھاسکر اور فلم رانجھانا کے ان کے ساتھی اداکار محمد ذیشان ایوب نے یونیورسٹی کے باہر جلسہ عام میں شرکت کی اور ایجی ٹیشن جاری رکھنے والوں کی کوششوں کو سراہا۔ ایوب نے نعرے لگائے کہ ’’ہم ایک ہیں‘‘ اور ’’انقلاب زندہ باد‘‘ جبکہ سورابھاسکر نے نغمہ نگار ورون گروور کی نظم پڑھی جو سی اے اے کے خلاف تحریر کی گئی جس کا کلیدی مصرعہ ہے ’’ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے‘‘ ۔ جلسہ عام کے بعد یونیورسٹی کی المنی اسوسی ایشن کی جانب سے موم بتیوں کے ساتھ مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ شاہین باغ میں خواتین کی جانب سے دھرنا ایک رات کے بعد دوبارہ شروع ہوا اور انہوں نے بھی آزادی کے حق میں اور سی اے اے کی مخالفت میں نعرے لگائے۔ سورابھاسکر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اجتماع کو مخاطب کرنے کے بعد احتجاج کے مقام پر پہنچیں۔ انڈیا گیٹ سے تقریباً 11 کیلو میٹر دور ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے کے علاوہ تاناشاہی نہیں چلے گی جیسے نعروں سے فضاء گونج اٹھی۔ احتجاجیوں نے سال نو کا جشن دستور کا دیباچہ پڑھتے ہوئے منایا اور مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس نے عہد کیا کہ وہ منصوبہ بند نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کے سلسلہ میں کوئی دستاویز نہیں دکھائیں گے۔ کئی جہدکار اور فنکار صفدر ہاشمی میموریل ٹرسٹ کی سرپرستی میں کانسٹیٹیوشن کلب آف انڈیا میں جمع ہوئے اور مختلف نظمیں پڑھے نیز گیت گائے۔ انہوں نے ترمیم شدہ قانون شہریت کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام سے یگانگت کے طور پر ڈراموں میں حصہ بھی لیا۔