ہم کسی بھی غیرملکی فوج کی موجودگی کو ’’قبضہ‘‘ تصور کرتے ہیں : طالبان

,

   

پہاڑوں اور صحراؤں میں لڑنے والے جنگجوؤں کا شہروں میں لڑنے سے گریز
ترکی کو اپنی افواج ہٹا لینے کا انتباہ ،طالبان کیلئے ’’مجاہدین‘‘ کی نئی اصطلاح

کابل : طالبان اب افغانستان کے شہروں کے اندر حکومتی فوجوں سے تصادم کرنا نہیں چاہتے۔ طالبان کے ایک قائد نے منگل کے روز یہ بات بتائی اور ساتھ ہی ساتھ ترکی کو بھی اس بات کا انتباہ دیا کہ وہ افغانستان میں اپنی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کے بارے میں ہرگز نہ سوچے۔ یاد رہیکہ حالیہ ہفتوں میں طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ افغان حکومت محض چند صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ اس موقع پر طالبان کے ترجمان کی جانب سے ٹوئیٹ کئے گئے ایک پیغام میں عامرخان متفقی نے کہا کہ طالبان کی لڑائی اب پہاڑوں اور صحراؤں سے ہوکر شہروں تک پہنچ گئی ہے لہٰذا مجاہدین شہروں کے اندر لڑنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے طالبان کے لئے ’’مجاہدین‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ 1990ء کی دہائی میں بھی جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو ان کی کم و بیش یہی پالیسی رہی تھی۔ طالبان نے ایک دیگر پیغام میں ترکی کے اس فیصلہ کی مذمت کی جہاں ترکی نے یہ کہا تھا کہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد کابل ایرپورٹ کو سیکوریٹی ترکی کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔ ہم کسی بھی غیرملکی افواج کی موجودگی کو قبضہ کرنے سے ہی تعبیر کرتے ہیں چاہے اس کی جو بھی وجہ ہو۔ کچھ روز قبل ہی ترکی نے امریکہ سے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ (ترکی) کابل ایرپورٹ کو سیکوریٹی فراہم کرے گا۔ اب جبکہ بیرونی افواج انخلاء کے عمل میں تیزی لاچکی ہیں جس کی تکمیل 31 اگست تک متوقع ہے۔ زمینی صورت حال میں تیزی سے تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔ دوسری طرف پیر کے روز افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ سطحی جنرل آسٹن ملر نے بھی اپنی کمانڈ سے دستبرداری اختیار کرلی جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی جنگ کو خاتمہ تک پہنچا دیا ہے۔ بیرونی افواج کا جس تیزی سے انخلاء ہورہا ہے اور جس تیزی سے طالبان نے متعدد حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے اس سے اب یہ خوف بھی پایا جانے لگا ہے کہ افغانستان کی سیکوریٹی فورسیس پر طالبان بہ آسانی غالب آجائیں گے جبکہ موجودہ صورتحال میں انہیں (افغان سیکوریٹی فورسیس) کو امریکہ کا تعاون بھی حاصل نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہیکہ امریکہ کے تقریباً 650 عہدیدار کابل میں واقع امریکہ کے وسیع و عریض سفارتی کمپاؤنڈ کی نگرانی کیلئے کابل میں ہی موجود رہیں گے تاہم ترک صدر رجب طیب اردغان نے جمعہ کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کابل ایرپورٹ کی سیکوریٹی کس طرح کی جائے اس کیلئے امریکہ کے ساتھ ان کا تال میل ہوچکا ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن بات چیت کے یوں تو کئی مراحل ہوچکے ہیں لیکن اب ایسا لگتا ہیکہ یہ بات چیت بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی کیونکہ طالبان اپنی فوجی فتح سے بیحد قریب ہیں۔ تاہم طالبان کی جانب سے افغانستان کے 85% حصہ پر قابض ہونے کے دعوے کی آزادانہ طور پر توثیق کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کیونکہ مختلف اوقات میں متضاد بیانات دیئے جاتے رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتہ ماسکو میں دورہ پر آئے طالبان کے ایک وفد نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نے ملک کے زائد از نصف اضلاع (400 اضلاع) پر قبضہ کرلیا ہے جس کی فوری طور پر سیکوریٹی فورسیس کے ترجمان اجمل عمر شنواری نے تردید کردی تھی۔