ماسکو : روسی صدر ولا دیمر پوتن کا کہنا ہے کہ یوکیرین سے اناج کی ترسیل کو روس کے زیر کنٹرول بندرگاہوں سے سر انجام دی جا سکتی ہے۔ پوتن نے روسی سرکاری ٹیلی ویڑن چینل روسیا۔ 24 سے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ہم ان بندرگاہوں سے نقل و حمل کی ضمانت دیں گے، غیر ملکی بحری جہازوں کے داخلے اور آزاک و بحیرہ اسود میں ہر سمت سفر کرنے کی اجازت دی جائیگی۔یہ بتاتے ہوئے کہ یوکرین سے اناج کی ترسیل کے لیے مختلف متبادل راستے موجود ہیں، پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ ان راستوں میں سے سب سے آسان اور سستا راستہ بیلاروس ہے۔انہوں نے کہا کہ اناج کو بیلاروس کے راستے بالٹک ممالک کی بندرگاہوں کو اور “وہاں سے، اسے پوری دنیا میں بھیجا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے بیلاروس پر عائد پابندیاں ہٹانی ہوں گی۔پوٹن نے بارودی سرنگوں سے پاک کیے جانے کی صورت میں یوکرین کی بندرگاہوں، پولینڈ، رومانیہ اور روس کے زیر کنٹرول بندرگاہوں کو دوسرے متبادل راستوں کے طور پر بھی پیش کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی اناج منڈی میں یوکرین کا حصہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔دنیا میں سالانہ 800 ملین ٹن اناج اور گندم پیدا ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یوکرین اب 20 ملین ٹن برآمد کر سکتا ہے۔ جو کہ عالمی پیداوار کا 2.5 فیصد بنتا ہے۔