ہندوتوا پر سنجے راوت کی بی جے پی پرپھر تنقید

   

Ferty9 Clinic

ممبئی: شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے کل پونے میں ہندوتوا کے بارے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ریمارکس پر بی جے پی پر آج پھر تنقید کی اور استفسار کیا کہ امیت شاہ کیا کہنا چاہتے ہیں، اسے وہ خود نہیں سمجھتے۔ سنجے راوت نے میڈیا سے کہاکہ امیت شاہ کل پونے میں اپنی تقریر میں کیا کہنا چاہتے تھے، وہ خود نہیں سمجھ پا رہے ہیں‘‘۔ سنجے راوت نے کہا کہ شیوسینا ایک ہندوتوا وادی پارٹی تھی اور ہمیشہ ملک میں ہندوتوا وادی پارٹی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کو شیوسینا کو ہندوتوا کا سبق نہیں پڑھانا چاہئے کیونکہ شیو سینا کی وجہ سے بی جے پی اتنی بڑی پارٹی بن پائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب بی جے پی کی پول کھل رہی ہے۔ حال ہی میں بی جے پی کی حکومت والی ریاست کرناٹک میں سماج دشمن عناصر کی جانب سے چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے پر سیاہی پھینکی گئی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، اس کے لئے ریاست میں احتجاج یا پتھراؤ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کتنی ہندوتوا وادی ہے۔سنجے راوت نے کہا کہ سال 2014 میں بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ شیو سینا کے بغیر الیکشن لڑنا چاہئے، ان افراد کی تفصیلات کا انکشاف کیا جانا چاہیے۔ اُنھوں نے کہاکہ شیوسینا نے اکیلے انتخابات میں حصہ لیا اور اچھی اصلاحات کیں۔ سال 2019 میں الیکشن سے پہلے انتخابی معاہدہ ہوا تھا کہ دونوں پارٹیوں کے وزیر اعلیٰ ڈھائی سال کے لئے بنائے جائیں گے لیکن انتخابات کے بعد بی جے پی مکر گئی۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کس نے کس کو دھوکہ دیا؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پچھلے دو تین سالوں سے مہاراشٹرا حکومت کے بارے میں عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کی حکومت اچھی چل رہی ہے اور اپنی مدت پوری کرے گی۔