ہندوتوا کا 130 کروڑ عوام پر اطلاق ، سی اے اے سے کسی کو خطرہ نہیں : بھاگوت

,

   

Ferty9 Clinic

چین کیخلاف جنگ کی تیاری کرنا ہندوستان کیلئے ضروری ، نیپال ، سری لنکا ، دیگر ممالک سے فوری اتحاد کرنے صدر آر ایس ایس کا مشورہ

نئی دہلی : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے صدر موہن بھاگوت نے دعویٰ کیا کہ ہندوتوا ہماری شناخت کا اظہار ہے اور یہ ملک میں رہنے والے 130 کروڑ عوام پر لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوتوا‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جس سے ہماری شناخت ہوتی ہے، بنیادی روایات کی عکاسی کرتا ہے۔ دسہرہ کے موقع پر انہوں نے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس میں کوئی سیاسی یا مرکزی طاقت کا عمل دخل نہیں ہے، یہ ہمارے ذہن کی اختراع ہے۔ ہندوتوا قوم پرستی کی نشانی ہے۔ انہوں نے چین کے بارے میں کہا کہ چین نے ہماری طاقت کا مظاہرہ نہیں دیکھا ہے۔ ہندوستان کو چین کے خلاف جنگی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چین کو ڈراگن توسیع پسند ملک قرار دیا اور حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ نیپال، سری لنکا اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ فوری اتحاد کرتے ہوئے چین کے خلاف تیاری کرے۔ ہندوستانی دفاعی فورس، حکومت اور عوام ، چین کی طاقت کی پرواہ نہیں کرتے۔ انہوں نے ہندوستان کو خبردار کیا کہ چین کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔ سی اے اے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ناگپور میں دسہرہ کے پروگرام میں موہن بھاگوت نے کہا ہم نے دیکھا کہ ملک میں سی اے اے مخالف مظاہرے ہوئے تھے جس سے معاشرے میں تناؤ پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پڑوسی ممالک سے فرقہ وارانہ وجوہات کی بناء پر تشدد کا شکار ہو کر ہندوستان آتے ہیں انہیں اس سی اے اے کے ذریعے شہریت دی جائے گی۔ ہندوستان کے شہریت ترمیمی قانون میں کسی خاص فرقے کی مخالفت نہیں ہے۔سنگھ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس قانون میں ان لوگوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے جو ہندوستان کے شہری ہیں۔ اگر کوئی باہر سے آتا ہے اور ہندوستان کا شہری بننا چاہتا ہے تو اس کے لئے ایسی دفعات موجود ہیں جو برقرار ہیں، وہ عمل جوں کا توں موجود ہے۔