ہندوتوا ہندوازم کی عمارت منہدم کررہا ہے

   

ارون سریواستو
ہندوستان میں آج ہندوتوا کو جس قسم کی شدت پسندی اور سفاکانہ صورتحال کا سامنا ہے ماضی میں کبھی بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا نہیں پڑا تھا۔ ہم نے جس ماضی کی بات کی اس بارے میں بلاجھجک یہ کہہ سکتے ہیں سابق میں کبھی بھی نہ ہی مغلیہ دورحکمرانی میں اور نہ ہی انگریزوں کی حکمرانی کے دوران ہندو مذہب کو اس خطرناک نوعیت کی شدت پسندی اور سفاکانہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ آج انتہائی دائیں بازو کی آر ایس ایس اور فاشسٹ بی جے پی کے دورحکومت میں درپیش ہے ویسے بھی یہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ ہندو مذہب کو ہندوتوا کے شدت پسندوں کی جانب سے وجود ہی خطرہ کا سامنا ہے جو صدیوں قدیم ہندومت کو مٹانے کی کھلی دھمکی دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک ہندوستان اور اس میں شنکراچاریوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہیکہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے بھی جن سے ہندوتوا فسطائی عناصر شدت نفرت کرتے ہیں انہیں ہندو دشمن قرار دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے کسی بھی شنکراچاریہ کو مقدس غسل سے نہیں روکا یعنی اورنگ زیب نے مقدس مگھ اسنان سے کبھی نہیں روکا یا اپنی دوحکمرانی میں شنکراچاریہ کے عہدہ و ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ ملک کے تاریخی ریکارڈس میں اس امر کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ اس بات کا کوئی ذکر اور حوالہ نہیں ملتا میں بتایا گیا ہیکہ مغل حکمرانوں نے خاص طور پر شنکراچاریہ کو نشانہ بنایا ہو یا انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی ہو۔ دونوں میں اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے دیوتاؤں کا احترام کرتے ہیں۔ اس کے متضاد ہندوتوا جو ہندومت کو ہی اپنا دشمن سمجھتا ہے اس کے باوجود ہندومت کے علمبرداروں اور ہندوتوا کے درمیان سلگتی ہوئی دشمنی 22 جنوری کو اس وقت کھل کر سامنے آگئی جب اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے بعض افراد کے بارے میں بیانات دیئے جن میں بالواسطہ طور پر شنکر اچاریہ کی جانب اشارہ تھا۔ ہریانہ میں منعقدہ ایک مذہبی پروگرام میں اوپمکتشورانند سروتی کو کلانمی جیسی طاقت قرار دے کر کہا گیا کہ وہ سناتن دھرم کو مذہب کی آڑ میں نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں بعد میں اس طرح کے سنگین الزامات کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے شنکراچاریہ نے کہا کہ جو لوگ انہیں کلانیمی (رامائن کا ایک فریبی دیو) کہہ رہے ہیں حقیقت میں وہی کلانیمی ہیں۔ شنکراچاریہ نے اپنے اقدامات کی یہ کہتے ہوئے مدافعت کی کہ جو یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں (شنکراچاریہ) نے سناتھن دھرم کو بدنام کیا ہے انہوں نے خود سناتن دھرم کیلئے کچھ نہیں کیا اور کسی قسم کی قابل ذکر خدمات انجام نہیں دی ہے۔ یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ اپنی مجروح انا کی تسکین کیلئے اور اپنی برتری جتانے کیلئے شنکراچاریہ کا تقابل کلانیمی سے کررہے ہیں۔ کلانیمی ایک طاقتور دیو اور راون کا ماموں تھا۔ دوسری روایات میں کلانیمی کو MARICHA کا بیٹا بتایا گیا ہے۔ وہ دیو جس نے سنہری ہرن کی شکل اختیار کی۔ کلانیمی کو ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں ایک طاقتور ASURA (دیو) بتایا گیا ہے جو دیوتاؤں کا مستقل دشمن اور برائی کا مجسم سمجھا جاتا ہے جس کا وشنویا وشنو کے اوتاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونا مقدر تھا۔ دوسری طرف شنکراچاریہ نے یوگی کے خلاف کوئی توہین آمیز یا انہیں ذلیل خوار کرنے والا لب و لہجہ استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے شدیدردعمل کے اظہار میں بھی بڑی احتیاط برتی اور کہا کہ جو لوگ اس طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں وہ خود سناتن دھرم کیلئے کوئی بامعنی خدمات انجام دینے میں بالکلیہ طور پر ناکام رہے اور جو کہتے ہیں کہ انہوں (شنکراچاریہ) نے سناتن دھرم کو بدنام کیا ہے انہوں نے خود کچھ نہیں کیا بلکہ سناتن دھرم کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ شنرک اچاریہ کے حامی بھی خاموش نہیں ہیں ان کے خیال میں انتظامی طاقت (راج ڈنڈا) دھرم دنڈا (مذہبی اتھاریٹی) کو دبانے کیلئے استعمال کیا گیا ہے جسے مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی سمجھا گیا۔ حالیہ عرصہ کے دوران ملک میں ہندوتوا انتہا پسند عناصر سناتن دھرم کو اپنے ہندو مخالف بیانیئے اور اقدامات کو جائز ٹھہرانے کیلئے استعمال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور اس کا وہ مسلسل استعمال کررہے ہیں۔ اگرچہ ہندوازم ایک قدیم اور برصغیر کی مقامی تہذیب ہے تاہم ہندوتوا ایک مخصوص سیاسی نظریہ ہے جسے 1892ء میں چندر ناتھ باسو نے پیش کیا اور بعد میں 1923ء کے دوران وی ڈی ساورکر نے اسے باقاعدہ شکل دے کر آگے بڑھایا۔ ہندوتوا ہندو مذہب کیلئے یا اس کی جانب سے کوئی لازمی ضمانت نہیں ہے۔ یہ زیادہ تر رائٹ ونگ کی سیاست اور آر ایس ایس جیسی تنظیموں سے قریبی طور پر وابستہ ہے باالفاظ دیگر سنگھ پریورا اور اس کی ذیلی سیاسی ونگ بی جے پی نے اسے انتخابات میں کامیابی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ وہ ہندوتوا نظریہ کا سیاست اور سیاسی نظام پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے استعمال کررہی ہیں مختصراً یہ کہ ہندوازم ایک عقیدہ ہے جہاں ہندوتوا ایک سیاسی آلہ ہے جو اس عقیدہ کو قومی شناخت کی تشریح و توضیح کیلئے استعمال کرتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آر ایس ایس اپنے قیام سے ہی ہندوازم کو سرمایہ دارانہ نوآبادیاتی ہندوتوا کے ساتھ تبدیل کرنے بے چین ہے لیکن وہ اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ایسے میں آر ایس ایس نے اپنے اس کام میں نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد شدت پیدا کردی ہے لیکن ایک ایسے ملک میں جو بنیادی طور پر سیکولر اور سوشلسٹ اقدار کا حامل ہے آر ایس ایس کیلئے اپنا ایجنڈہ مکمل کرنا کوئی آسان نہیں ہے۔ آر ایس ایس مسلسل اس بات پر قائم ہیکہ ہندو معاشرہ اور ثقافت زائداز 1000 برسوں سے خطرہ میں تھی اور اب بھی خطرہ میں ہے۔ خاص طور پر مغلیہ دور حکمرانی میں ہندوؤں کے ساتھ بدترین نوعیت کے سماجی اور ثقافتی سلوک روا رکھا گیا یہ دراصل اس کی ہندوتوا سیاست کا مرکز ہے جو اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ ہندوازم مغل حکمرانوں کے ظلم و جبر سے ہندوؤں کے تحفظ میں ناکام رہی۔ بہرحال مودی راج کے 11 برسوں کے دوران ہندوتوا اور ہندوازم کے درمیان تلخیاں اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئیں۔