ہندوستانیوں کو کورونا وائرس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

,

   

اٹلی کے 6شہریوں کے بشمول 30افراد متاثر ، پیراسیٹامل سے ہٹ کر دوسری دوا کی ضرورت نہیں،ماہرین کا بیان

نئی دہلی۔5فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے سرکردہ تحقیق کار اور سائنسدان نے کہا کہ ہندوستانیوں کو کورونا وائرس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہندوستان میں کورونا وائرس سے پانچ کے منجملہ 4افراد کا ٹسٹ پازیٹیو پایا گیا ہے لہذا اس پھوٹ پڑنے والے وائرل کے تعلق سے پریشانی کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس مرض کا ٹسٹ صرف اُس صورت میں کیا جائے گا جب ڈاکٹروں نے سفارش کی ہو ۔ گگن دیپ کنگ نے کہا کہ ہندوستان میں اگرچہ کہ 30کیس سامنے آئے ہیں ان میں 16اٹلی کے سیاح ہیں ۔ کیرالا کے تین مریض کورونا وائرس سے متاثر تھے لیکن اب یہ لوگ صحت یاب ہورہے ہیں ۔ کرسچن میڈیکل کالج کی پروفیسر جو گذشتہ سال لندن میں رائل سوسائٹی کی پہلی ہندوستانی خاتون فیلوکے طور پر منتخب ہوئی تھیں اُن کا کہنا ہے کہ برائے کرم صحت عامہ کا خیال رکھنے والے حکام سے کہا جائے کہ وہ کورونا وائرس سے غیر متاثرہ افراد کو ہجوم میں جانے سے گریز کا مشورہ دیں ۔ احتیاط سے بڑھ کر کوئی علاج نہیں ہے لیکن فی الحال وائرس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر کی جانی چاہیئے ۔ پانچ افراد میں سے صرف چار افراد اپنے طور پر صحت یاب ہورہے ہیں ، انہیں بخار اور کھانسی کے لئے دی جانے والی دوا جیسے پیراسیٹامل سے ہٹ کر کوئی دوا نہیں دی جانی چاہیئے ۔ پانچویں شخص کو ڈاکٹر رجوع ہونے کی ضرورت ہے یا انہیں دواخانہ میں شریک کیا جانا چاہیئے ۔ اگر آپ کو سانس لینے میں تکلیف ہو تو آپ فوری جتنا ممکن ہوسکے ڈاکٹر کو بتائیں ۔ ناروے کے انٹرنیشنل کولیویشن فار اپیڈمیک پری پیڈنس اناویشن کی نائب چیرمین نے مزید کہا کہ وباؤں کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ان کے ادارے کی جانب سے ٹیکوں کو تیار کیا جارہا ہے ۔ کسی بھی وباء پر ہر ایک کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی غیر ضروری پریشان کیا جائے ۔ ہمیں ہر روز کئی وائرس کا سامنا ہوتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے ہر شخص روزآنہ صاف صفائی کا خیال رکھیں

اور ہاتھوں کو بار بار دھوکر استعمال کریں ، اپنے چہرے کو بغیر ہاتھ دھوے کے ہاتھ نہ لگائیں ۔ کورونا وائرس کئی وائرسوں کا ایک بڑا خاندان ہوتا ہے ۔ اس سے عام سردی سے لے کر سنگین نظام تنفس کی شکایت پیدا ہوتی ہے ۔ COVID-19 سے دنیا بھر میں تین ہزار سے زیادہ افراد فوت ہوئے ہیں اور 90ہزار افراد متاثر بتائے گئے ہیں ۔ عالمی سطح پر 53ہزار افراد صحت یاب ہوچکے ہیں ۔ جانس ہاپنس سنٹر برائے سسٹم سائنس اور انجنیئرنگ نے بتایا کہ کورونا وائرس قابل علاج ہیں ۔ عالمی صحت تنظیم نے پہلے ہی وائرس کو عالمی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے ۔ کورونا وائرس سے ناک اور گلے میں خراش ہوجاتی ہے اس کے ٹسٹ کرنے کیلئے 12تا 24 گھنٹے درکار ہیں ۔ انہوں نے اپنی ریسرچ کے ذریعہ بتایا کہ متاثرہ افراد کے ذریعہ بھی وائرس پھیلتا ہے ۔ ہندوستان میں فلو کیس زیادہ ہوتے ہیں اور جب کہ دنیا بھر میں فلو سے زیادہ سی او وی آئی ڈی ۔19 پایا جاتا ہے ۔سارس بھی کورونا وائرس سے ہی نظام تنفس کو خراب کرتا ہے ۔ بچوں میں بھی یہ مرض آسکتا ہے لیکن بڑوں میں سب سے زیادہ اثر دار ہوتا ہے ۔ وائرل انفکشن کے خلاف کئی دوائیں پائی جاتی ہیں جن میں ویکسن بھی ہیں اور آئندہ سال کورونا وائرس کے ویکسن بھی تیار کئے جائیں گے فی الحال اس کا کوئی ویکسن نیہں ہے۔