ہندوستانی بینکوں کو اسلامی بینکنگ نظام کے مواقع اور صلاحیتیں تلاش کرنے کا مشورہ

   

اسلامی حصص میں مسلمانوں سے زیادہ جین برادری کی سرمایہ کاری، احمدآباد کی دو جین بہنیں اوّلین حلال کاسمیٹکس کی تیاری اور فروخت میں مصروف
سنگاپور 28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مالیاتی و اقتصادی شعبہ کے چند ماہرین نے کہا ہے کہ ہندوستانی اور بیرونی بینکوں کو اپنے مالیاتی نظام میں اسلامی بینکنگ کی بعض غیر مستعملہ صلاحیتوں کو استعمال کے لئے تلاش کرنا چاہئے۔ اسلام میں سود حرام ہے اور اسلامی بینکنگ نظام شرح سود میں عدم تبدیلی کے اُصولوں پر مبنی ہے۔ مالیاتی جائزوں اور تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اسلامی مالیاتی شعبہ کو مسلسل فروغ حاصل ہورہا ہے۔ بینکنگ نظام اپنے حجم اور جامعیت کے سبب دنیا بھر کے 60 ممالک میں زیراستعمال ہے۔ اسلامی بینکنگ کے ایک ماہر حازق محمد نے کہاکہ ہندوستان اور دیگر خارجی بینکوں کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ہندوستان میں اسلامی بینکنگ کو فروغ دے جہاں اس مالیاتی نظام کی پوشیدہ خصوصیات سے ہنوز استفادہ نہیں کیا جاسکا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ شریعی پیمانے جیسے بانڈس (سکوں) اور فنڈس پابند شریعت سرمایہ کاری پر دیکھے جاتے ہیں جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلم سرمایہ کاروں کی ضروریات کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ سوائے پاک، حصص پر مبنی بینکنگ کے بشمول اسلامی فینانس ہندوستان کے موجودہ بینکنگ اور فینانس سسٹم کے لئے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ محمد حازق فی الحال ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعہ شرعی اُصولوں کو روبہ عمل لانے کے لئے اس قسم کے مختلف حل تلاش کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ’اسلامی فینانس ایک متبادل مالیاتی نظام کے طور پر ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اپنی بینکنگ ضروریات سے نمٹنے کے لئے ایک مؤثر متبادل فراہم کرے گا‘۔ حازق نے کہاکہ روایتی بینکنگ کے مقابلے اسلامی بینکس نے بعض فوائد دیئے ہیں۔ ’روایتی بینکوں کے مقابلے اسلامی بینکس بحرانوں اور دھکوں کی صورت میں زیادہ زضبوط اور ثابت قدم رہے ہیں۔ مصر، انڈونیشیا، ملائیشیاء، پاکستان، ترکی، متحدہ عرب امارات وغیرہ کی اسلامی بینکوں سے موصولہ اعداد سے اس حقیقت کا پتہ چلا ہے۔ ان ممالک میں دونوں بینکنگ نظام رائج ہیں‘۔ اسلامی شریعی مالیاتی نظام کے لئے کام کرنے والے مرکز برائے اسلامی بینکنگ (آئی سی آئی ایف) کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب نے کہاکہ اسلامی بینکنگ نظام میں چھوٹے اور متوسط صنعتکاروں کو مدد کی فراہمی کے علاوہ وسیع تر مالیاتی شمولیات کی بے پناہ صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔ اسلامی بینکنگ کے نفاذ کی صورت میں زراعت و پیداوار سے منسلک غیر منظم شعبہ میں مزدوروں کے ناکافی شرح فی کس آمدنی کا تناسب پیش کیا جاسکتا ہے۔ عبدالرقیب نے کہاکہ ہندوستانی اسٹاک بازار میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ جین برادری کی جانب سے شریعت کے پابند ٹاٹا ایتھیکل فنڈ اور دیگر فنڈس میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ پہلا ’حلال پراڈکٹ‘ آئی بی اے کازمیٹکس احمدآباد میں جین برادری سے تعلق رکھنے والی بہنیں تیار کی ہیں اور ان حلال اشیاء کی فروخت پر مبنی کاروبار کررہی ہیں۔