ہندوستانی خواتین دستوں کا اقوام متحدہ کے امن مشن میں اہم کردار

   

نیویارک : ہندوستانی خواتین کی ایک بڑی تعداد مسلح افواج میں بھی شامل ہو رہی ہے اور اس طرح بین الاقوامی مشنز میں بھی ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق امن دستوں میں خواتین کی زیادہ شمولیت سے آپریشن مزید موثر ہو گئے ہیں۔ہندوستانی شہر میرٹھ کے ایک پولیس کیمپ میں سخت تربیتی سیشن کے بعد اپنی بیرک میں بیٹھی ہوئی 34سالہ سونیجا پرساد کہتی ہیں ’’خواتین کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔‘‘ پرساد ریاپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) دستے میں ایک انسپکٹر ہیں۔سریع الحرکت آر اے ایف بھارت میں نیم فوجی سنٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک خصوصی ونگ ہے، جو فسادات اور ہجوم پر قابو پانے جیسے حالات سے نمٹنے کا کام کرتا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت سے قبل سونیجا نے صبح ہی سے اپنی 20 دیگر ساتھیوں کے ساتھ سخت ترین ٹریننگ مکمل کی تھی۔ سونیجا پرساد اقوام متحدہ کیلئے اپنے دوسرے امن مشن کیلئے تربیت لے رہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا ’’خواتین بہترین امن کیپر ہو سکتی ہیں۔ ہم معاشروں کو مضبوط کر سکتے ہیں اور دوسری خواتین کو بھی اس حقیقت سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ ان میں بھی کچھ کرنے کی صلاحیت ہے۔‘‘