ہندوستانی خاتون سیاح کی موت پر پرتگالی وزیر صحت مستعفی ، تلنگانہ حکومت کے لیے سبق آموز
حیدرآباد۔2۔ستمبر۔(سیاست نیوز) ہندستانی خواتین کی عزت اور اہمیت ہندستان سے زیادہ پرتگال میں ہے بلکہ انسانی زندگی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا ہے تو ہندستان کے علاوہ دیگر ممالک میں انہیں حاصل مقام و مرتبہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ گذشتہ تین یوم سے ریاست تلنگانہ میں خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے دوران ہونے والی اموات کے سلسلہ میں خبریں شائع و نشر ہورہی ہیں اور ان خبروں کے درمیان کسی بھی گوشہ سے ریاستی حکومت کو ذمہ دار قراردینے کی کوشش بھی نہیں کی گئی جبکہ 4خواتین کی اموات واقع ہوئی لیکن کسی بھی عہدیدار کو معطل کرنے یا اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کسی بھی عہدیدار نے اپنے عہدے سے استعفٰی نہیں دیا بلکہ خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کو بند کردینے کا فیصلہ کیا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری دواخانوں میں ہونے والی لا پرواہی کے لئے کوئی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ جو خواتین فوت ہوئی ہیں اس کے لئے کوئی ذمہ دار بھی نہیں ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے دوران ہونے والی ان اموات کے متعلق خبروں کے دوران پرتگال سے ایک خبر موصول ہوئی جہاں ایک ہندستانی سیاح کی ایک دواخانہ سے دوسرے دواخانہ منتقلی کے دوران موت واقع ہوگئی اور اس حاملہ سیاح کی موت پر پرتگال کی وزیر صحت نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا۔پرتگال کی وزیر صحت نے ایک ہندستانی سیاح کی دواخانہ منتقلی کے دوران ہونے والی موت پر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفی دے دیا اور تلنگانہ میں 4خواتین کی اموات کے بعد ان کے افراد خاندان کو ملازمت ‘ حکومت کی ڈبل بیڈ روم اسکیم میں فلیٹ کے علاوہ ایکس گریشیاء کی اجرائی کا اعلان کیا گیا ہے اور ان اموات کے لئے معمولی ملازمین کو نشانہ بناتے ہوئے کاروائی کا تاثر دیا گیا ہے ۔پرتگال کی وزیر صحت مارٹا تمیڈو نے ہندستانی حاملہ سیاح کی موت پرگہرے دکھ کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ اس حاملہ سیاح خاتون کی موت کے لئے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوگئیں جو کہ ہندستانی وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے لئے سبق آموز واقعہ ہے بلکہ ہندستانی عوام کو بھی اس بات کا احساس دلانے کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ دنیا کے دیگر مقامات پر ان کی زندگی کی کیا اہمیت ہے!۔م