ہندوستانی طلبہ کیلئے بیرون ملک تعلیم کی نئی راہیں

   

نئی دہلی: شیو نادر یونیورسٹی، دہلی۔این سی آر اور ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی، یو ایس اے نے تعلیم کے شعبہ میں اہم شراکت داری کی ہے ۔دونوں یونیورسٹیوں کے مابین یہ شراکت داری آنے والے برسوں میں اختراعی ڈگری پروگراموں اور اسی طرح کے مختلف باہمی تعاون کے اقدامات کی پیشکش کے قابل بنائے گی۔ یہ پروگرام شیو نادر یونیورسٹی کے ذریعے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے اشتراک سے چلائے جائیں گے ۔شیو نادر یونیورسٹی بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی طلباء کیلئے عالمی تعلیم کی نئی راہیں کھولنے کیلئے کام کر رہی ہے ۔ اس شراکت داری کا آغاز کمپیوٹر سائنس اور بزنس ڈاٹا اینالیٹکس میں دو انڈرگریجویٹ ڈوئل ڈگری پروگراموں سے ہوتا ہے۔ ان چار سالہ ڈگری پروگراموں میں طلباء پہلے دو سال شیو نادر یونیورسٹی میں اور اگلے دو سال ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کریں گے۔
چار سال کے مطالعے کے اختتام پر طلبائکو دو ممتاز یونیورسٹیوں سے دوہری بیچلر آف سائنس کی ڈگری ملے گی۔ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کی بات کریں تو اس معروف ادارے کو 2016 سے 2024 کے درمیان مسلسل نو برسوں تک یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کی جانب سے جدت طرازی کیلئے امریکہ میں نمبر 1# یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے ۔اس شراکت داری کے بارے میںاظہار خیال کرتے ہوئے شیو نادر یونیورسٹی، دہلی این سی آرکی وائس چانسلر پروفیسر اننیا مکھرجی نے کہا کہ یہ دنیا کی ٹاپ 1فی صد یونیورسٹیوں میں سے ایک کے ساتھ ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک بہترین آغاز ہے ۔ ہمارا ہدف ایسے گریجویٹ پیدا کرنا جو ایک نئی دنیا کی تعمیر کیلئے منفرد نقطہ نظر رکھتے ہوں، ہمارا خیال ہے کہ اس طرح کی بین الاقوامی شراکتیں طلبائکو عالمی رہنما اور اختراع کرنے والے کے طور پر تیار کرنے کیلئے لازمی ہیں۔مختلف موضوعات کی معلومات حاصل کرنے او رتجربہ پر مبنی تعلیم کی حصولیابی کیلئے ایس یو کے عزم اور پائیداری پر اس کی توجہ اس ساجھے داری کیلئے انتہائی اہم ہے ۔اس موقع پر ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے صدر مائیکل کرو نے کہا کہ دنیا بھر میں بہترین معیاری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کیلئے ایس یوعالمی تحریک کا حصہ بننے کی کوشش کررہا ہے ۔ سنٹانا کے ساتھ ہماری کوششیں تعلیمی کامیابیوں میں اضافہ کریں گی۔ علم کو ہمیشہاہمیت حاصل رہی ہے ۔ ایک نایاب چیز ہے جسے دوسروں تک پہنچانا چاہئے ۔ یہ ہمیں اس مقام پر نہیںلے جائے گا جہاں ہمیںایک نسل اور ایک عالمی معاشرے کی شکل میں ہونا چاہئے ۔ہمارا ہدف ہے کہ ہم اس کے بارے میں کچھ کرنا ہے اورہم بعینہ وہی کر رہے ہیں۔اس شراکت داری کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ہندوستانی طلبائکو بین الاقوامی تعلیم کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کیلئے طلبہ کو بقیہ دو سال کی تعلیم صرف امریکہ میں ہی مکمل کرنی ہوگی۔ گریجویشن کے بعد، طلبائکو اختیاری عملی تربیت (او پی ٹی) پروگرام برائے ایس ٹی ای ایم گریجویٹس کے تحت ریاستہائے متحدہ میں تین سال تک کام کرنے اور رہنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس پروگرام کی ایک اور خاص بات ٹیمپے ، ایریزونا کیمپس میں ایک اختیاری ایس ایس یو سمر ایکسپیرینس ہے ، جو طلبائکی قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے بارے میں سیکھنے پر توجہ مرکوزکرے گا۔