بنیادی سہولتوں کی کمی ، خادم الحجاج لاپتہ، سم کارڈ کئی دن تک کارکرد نہیں، تکلیف دہ فلائیٹ
حیدرآباد ۔15 ۔ جون (سیاست نیوز) حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹیوں کی ذمہ داری کیا عازمین حج کو سعودی عرب منتقل کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے؟ یہ سوال اس وقت پیدا ہوا جب حج 2023 ء کے ہندوستانی عازمین حج جب مکہ مکرمہ پہنچے تو انہیں رہائشی عمارتوں میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستانی عازمین حج کے لئے مکہ مکرمہ میں عزیزیہ کے مقام پر رہائشی عمارتیں الاٹ کی گئی ہے۔ تلنگانہ کے 3750 عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے موثر انتظامات کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے اور عازمین حج نے مکہ مکرمہ سے اپنی تکالیف اور مشکلات کے بارے میں واقف کرایا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ رہائشی عمارتوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور مسائل کی یکسوئی پر توجہ دینے کیلئے کوئی عہدیدار دستیاب نہیں ہے۔ عازمین کی خدمت اور رہنمائی کیلئے خادم الحجاج کو روانہ کیا جاتا ہے لیکن عازمین کے مطابق جدہ پہنچتے ہی بیشتر خادم الحجاج اپنی نجی مصروفیات میں منہمک ہوجاتے ہیں۔ تلنگانہ کے عازمین نے شکایت کی ہے کہ حج کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ سم کارڈ کئی دن تک ایکٹیویٹ نہیں ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ہندوستان میں اپنے گھر والوں سے ربط قائم کرنے میں ناکام ہیں۔ عازمین کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر نئے سم کارڈس حاصل کرنے پر مجبور ہورہے ہیں جس کے لئے اضافی رقم ادا کرنی پڑ ہی ہیں۔ عزیزیہ کی رہائشی عمارتوں میں ٹائلٹس اور کچن کے کئی مسائل ہیں۔کئی رہائشی کمروں کیلئے ایک ٹائلٹ اور ایک کچن الاٹ کیا گیا جو ناکافی ہے۔ عازمین حج نے عمارت کی تصاویر روانہ کی جس میں ایک ٹائلٹ کا دروازہ نہیں ہے۔ ایک روم میں 6 تا 8 عازمین کو رکھا گیا ہے جس کے نتیجہ میں بے پردگی کا اندیشہ ہے۔ تلنگانہ کے عازمین نے بتایا کہ خادم الحجاج عازمین سے ربط میں نہیں ہیں جس کے سبب اپنی مشکلات بیان کرنے کیلئے کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ عازمین حج نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزارت خارجہ کے ذریعہ سعودی حکام سے ربط قائم کرتے ہوئے عزیزیہ کی عمارتوں میں بہتر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد ایرپورٹ سے روانگی کے ساتھ ہی صبر آزما مراحل کا سامنا ہے۔ وستارا ایر لائینس کی چھوٹی فلائیٹس کے نتیجہ میں نشستیں کافی تکلیف دہ ہے اور عازمین کو کئی گھنٹوں تک اس تکلیف سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔ مسقط میں ایک گھنٹہ سے زائد تک توقف ہے لیکن عازمین کو فلائیٹ میں انتظار کی زحمت اٹھانی پڑ رہی ہے اور انہیں اس وقفہ میں اسناکس سربراہ نہیں کئے جاتے۔ تلنگانہ حج کمیٹی کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ عازمین کے مسائل کے حل کیلء سعودی حکام اور انڈین حج مشن سے ربط قائم کریں۔ر