بارہویں جماعت کامیاب طلباء وطالبات کیلئے NDA امتحان روشن مستقبل کا دروازہ
میڈیسن اور نرسنگ کی خواہاں طالبات کے لیے بھی خصوصی کالجس
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : ہمارے معاشرہ میں نوجوان نسل خاص کر لڑکوں میں بہت زیادہ بے راہ روی دیکھی جاتی ہے ۔ یہ لڑکے کچھ ہنر حاصل کرتے ہوئے اپنے خاندان کی مدد کرنے کی بجائے رات دیر گئے تک جاگتے ہوئے ٹک ٹاک وغیرہ پر مصروف رہتے ہیں ۔ اس طرح اپنی زندگی کا قیمتی وقت ضائع کردیتے ہیں ۔ دوسری طرف جو لڑکے لڑکیاں تعلیم کے میدان میں شاندار مظاہرہ کرتے ہیں وہ خود کو ڈاکٹر یا انجینئر یا پھر چند ایک پروفیشنل کورسیس تک محدود کردیتے ہیں ان کے ذہنوں میں کبھی بھی AFCAT ، NCC ، UPSCNDA یا UPSCCDS امتحانات میں شرکت کر کے ان میں کامیابی حاصل کرنے کا کوئی خیال نہیں آتا وہ ہندوستانی فضائیہ میں بطور پائلٹ ، بطور آرمی آفیسرس بطور نرسس یہاں تک کہ فوجی جوان کی حیثیت سے نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ اپنے ملت کی بھی خدمت کرسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر 12 ویں جماعت یعنی انٹر میڈیٹ کے بعد کمرشیل پائلٹ بننے کا عمل شروع ہوتا ہے اور کمرشیل پائلٹ بننے کے لیے ایک سال میں 18 لاکھ روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔ اس کے برعکس انڈین ایر فورس میں پائلٹ بننا ہو تو اس کا درخواست فارم صرف 100 روپئے میں دستیاب ہے اور لڑکیوں کے لیے درخواست فارم کے 100 روپئے بھی نہیں لیے جاتے ، اگر انٹر میڈیٹ پاس لڑکے لڑکیاں وہ درخواست فارم پر کرتے ہیں اور ان کا انتخاب عمل میں آتا ہے تو پھر انہیں چار سال کی پائلٹ ٹریننگ ، کھانا رہنا تمام کے تمام مفت اس طرح لڑکا / لڑکی 21 سال کی عمر میں پائلٹ بن جاتے ہیں ۔ 15 سال ایر فورس میں خدمات انجام دے کر 36 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر پرائیوٹ ایرلائنز میں پائلٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر عمل میں آتا ہے اور ماہانہ 6 لاکھ روپئے تک وہ تنخواہ حاصل کرتے ہیں لیکن افسوس ہمارے طلباء و طالبات اور اولیائے طلبہ میں اس تعلق سے کوئی شعور ہی نہیں اور ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ چار سال تک سالانہ 18 لاکھ روپئے خرچ کر کے کمرشیل پائلٹ بن بھی جاتے ہیں تو جاب کی کوئی گیارنٹی نہیں جب کہ 19 سال کی عمر
میں لڑکا / لڑکی ہندوستانی فضائیہ میں آفیسر بن سکتے ہیں ۔ اس طرح ہمارے بچے JEE اور NDA جیسے امتحانات چھوڑ کر دوسرے امتحانات دیتے ہیں ۔ اگر ہمارے بچے نیٹ NEET لکھتے ہیں تو اس کے ساتھ انہیں NDA اور AFCAT جیسے مسابقتی امتحانات بھی لکھ سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ آرمی میڈیکل کالج پونہ میں ہماری لڑکیاں داخلہ لے کر ایم بی بی ایس کرسکتی ہیں جہاں 120 میں سے 120 سیٹس لڑکیوں کے لیے مختص ہیں جہاں آپ کا ایم بی بی ایس حکومت کے خرچ پر ہوگا ۔ ایم ڈی بھی حکومت کے خرچ پر ہوگا ۔ 15 سال میں ریٹائرڈ ہو کر اپنا کلنک یا ہاسپٹل قائم کر کے پریکٹس کرسکتے ہیں ۔ خاص کر مسلم لڑکیاں حجاب کا خیال رکھتی ہیں ۔ نیوی یا بحریہ میں ملٹری نرسنگ سرویس کا درخواست فارم پر کیجیے ۔ ایک لاکھ روپئے تنخواہ دی جاتی ہے ۔ MNS میں صرف لڑکیوں کو داخلہ دیا جاتا ہے ۔ لکچررس بھی خواتین ہوتی ہیں ۔ کوسٹ گارڈ میں بھی ہمارے بچے تربیت اور ملازمت حاصل کرسکتے ہیں اور یہاں آفیسر ٹریننگ اکیڈیمی بھی ہے جہاں لڑکا ہو یا لڑکی جنرل نالج انگریزی اور ریاضی ( میاتھس ) کی معمولی نالج کے ساتھ آفیسر بن سکتے ہیں ۔ دوسری جانب اگنی ویر اور اگنی پتھ میں ہمارے لڑکے شمولیت اختیار کر کے ہر 5 سال تک ہر ماہ 30 ہزار روپئے تنخواہ ( اعزازیہ ) حاصل کرسکتے ہیں اور امتحانات دے کر فوجی آفیسر بھی بن سکتے ہیں انہیں اوپن یونیورسٹی کی ڈگری اور 12 لاکھ روپئے 5 سال کے بعد دئیے جاتے ہیں ۔۔