ہندوستانی فلم ’اکیس‘ کی پاکستان میں بھی ستائش

   

اسلام آباد؍ نئی دہلی ۔ 7 فروری (ایجنسیز) اکیس صرف میدان جنگ کی کہانی نہیں بلکہ ان زخموں کی داستان ہے، جو جنگ کے بعد بھی نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ اکیس سرحد پار دشمنی اور بے جا قوم پرستی کو فروغ دینے کے دور میں تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ اگر فلمیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی اور فاصلے کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں، تو بالی ووڈ کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ” اکیس‘‘ اس دعوے کی ایک مضبوط مثال ہے۔ ایک ایسے عہد میں، جب سنیما نفرت، قوم پرستی اور تعصب کو فروغ دینے کا ہتھیار بنتا جا رہا ہے، اکیس کو ایک جرات مندانہ تخلیقی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی برسوں بعد کسی پروڈیوسر نے ایسی فلم میں سرمایہ کاری کی ہے، جو نفرت کو ہوا دینے کے بجائے اسے رد کرتی ہے جسے پاکستان میں بھی پسند کیا گیا۔ آج کے ماحول میں، جہاں بالی ووڈ کی متعدد فلمیں ہندوستانی مسلمانوں کو مشکوک اور پاکستان کو یک طرفہ طور پر منفی انداز میں پیش کرتی ہیں، اکیس ایک مختلف اور تازہ بیانیہ سامنے لاتی ہے۔ دھرندھر، کشمیر فائلز اور بنگال فائلز جیسی فلموں کے برعکس اکیس صرف فلموں پر مبنی دشمنی بیچنے کے بجائے سوال اٹھاتی ہے۔