ہندوستانی مجموعی گھریلو پیداوار توقع سے کہیں زیادہ کمزور

   

واشنگٹن /نئی دہلی۔ /13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے مطابق ہندوستانی معاشی ترقی توقع سے کہیں زیادہ کمزور ہے جس کی وجہ کارپوریٹ اور ماحولیاتی ضابطہ میں غیریقینی کے علاوہ بعض غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں میں پیدا شدہ انحطاط و سست روی بتائی گئی ہے ۔ تازہ ترین اعداد کے مطابق ہندوستانی شرح نمو 2019-20 کی پہلی سہ مالی میں 5 فیصد تک گھٹ گئی جو گزشتہ چھ سال میں سب سے کم سطح پر ہے۔ آئی ایم ایف نے جولائی کے دوران ہی ہندوستان میں 2019-20 کے دوران معاشی سست روی کی پیش قیاسی کی تھی ۔ ان دونوں سال کے دوران 0.3 فیصد سست روی کا تخمینہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ اس عالمی ادارہ نے کہا تھا کہ اس کی گھریلو مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) 7 فیصد اور 7.2 فیصد رہے گی جس سے گھریلو طلب میں توقع سے زیادہ کمی کا رجحان دکھایا گیا تھا ۔ اس سست روی کے باوجود ہندوستان دنیا کی تیز رفتار ترین ترقی کرنے والی معیشت ہی رہے گا اور ترقی کی شرح کے اعتبار سے چین سے بہت آگے رہے گا ۔