تقسیم ہند کے موقع پر 15 سالہ لڑکی نے نقل مکانی کی تھی ،92 سالہ خاتون بچپن کی یادیں تازہ کرکے مسرور
راولپنڈی۔ رینا ورما کی عمر صرف 15 سال تھی جب انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں اپنا آبائی گھر چھوڑ دیا اور تقسیم کے بعد ہندوستان نقل مکانی کرگئیں۔ برسوں سے وہ اپنے آبائی گھر واپس جانے اور اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرنے کی خواہش اور خواب دیکھتی رہی۔ پاکستان میں قائم ایک دوستانہ نیٹ ورک کی طرف سے اس کی کوشش اور حمایت سے اس کا خواب اس وقت پورا ہوا جب وہ 92 سال کی ہوگئی ہیں تاہم انہیں واہگہ-اٹاری بارڈر سے پاکستان میں داخل ہونے اور علاقے، پرانی گلیوں اور گھرکو دیکھنے میں 75 سال لگے، جہاں اس نے بچپن میں اپنا وقت گزارا۔ورما کا آبائی گھر پریم گلی محلہ، ڈی اے وی کالج روڈ، راولپنڈی میں واقع ہے۔ علاقے میں پہنچتے ہی اس کا استقبال مقامی باشندوں کی جانب سے بے پناہ محبت، موسیقی، تقریبات، پھولوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ کیا گیا، جنہوں نے تنگ گلیوں میں چلتے ہوئے اپنے آبائی گھر پہنچ کرکھلے بازوؤں اور محبتوں سے اس کا استقبال کیا۔ وہ اپنے آبائی گھر کے ہر ایک حصے کو چھوکر اپنی یادوںکو تازہ کرتی چلی گئی۔ مٹھاس اور جذباتی اثرات میں اضافہ کرنے کے لیے وہ بالکونی میں کھڑی ہوکرگیت گاتی، اپنے بچپن کو زندہ کرتی تھی۔گھر سے گزرتے ہوئے ورما کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔ اسے اپنے آبائی گھر واپس آنے میں کئی سال لگے۔ ان سالوں میں اس نے بتایا کہ ان کا ایک خاندان آٹھ افراد پر مشتمل تھا لیکن آج وہ ان میں سے اکیلی رہ گئی ہیں۔میں آج بھی اپنے آپ کو یہاں دیکھ سکتی ہوں، اس وقت وہاں رہنے والے پڑوسی بہت اچھے تھے، جب کسی کی شادی ہوتی تھی تو مجھ سمیت گلی کے سارے بچے ادھر ادھر بھاگتے تھے اور مزے کرتے تھے اور ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔اب ایک بار پھر دل چاہتا ہے کہ پاکستان اورہندوستان کے درمیان نفرت ختم ہو جائے اور دوبارہ ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا جائے۔انہوں نے سرحد پار نفرتوں کو ختم کرنے کیلئے ہر گوشے سے کوشش کرنے کی مانگ کی ۔