پہلی جنوبی ایشیائی امیدوار بننے کا اعزاز ۔ ٹاملناڈو کے تھینی ضلع سے تعلق ۔ بچپن میں ہوئی تھی امریکہ منتقلی
واشنگٹن 4 اپریل ( ایجنسیز ) امریکہ کی سیاست میں جنوبی ایشیائی برادری کی بڑھتی نمائندگی کے درمیان اہم پیش رفت ہوئی جہاں ہندوستانی نژاد رینی سمپت نے واشنگٹن ڈی سی میئر کے انتخاب میں تاریخ رقم کی ۔ وہ اس اعلیٰ عہدہ کیلئے بیلٹ تک پہنچنے والی پہلی جنوبی ایشیائی امیدوار بن گئی ہیں، جسے سیاسی حلقوں میں ایک نمایاں سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے ۔ ٹاملناڈو کے ضلع تھینی میں پیدا ہوئی 31 سالہ رینی سمپت بچپن میں امریکہ منتقل ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کا نتیجہ ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیائی برادری کیلئے باعثِ فخر لمحہ بھی ہے۔ رینی سمپت کے مطابق وہ سات برس کی عمر میں بڑے خواب لے کر امریکہ آئیں اور اب ان کا مقصد یہ ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کے ہر شہری کو بہتر مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کی انتخابی مہم کو عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی ملی ہے اور چار ہزار پانچ سو سے زائد افراد نے ان کی حمایت میں دستخط کیے، جس کے بعد انہیں باضابطہ بیلٹ میں شامل کر لیا گیا۔گزشتہ دہائی سے واشنگٹن میں مقیم رینی سمپت ایک سرکاری ٹھیکیدار ہیں۔ ان کا انتخابی منشور شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی مرمت، سیوریج نظام کی اصلاح، پانی کی نکاسی، ایمرجنسی سروسز (911) کی بہتری اور مہنگائی پر قابو ان کی ترجیحات میں شامل ہیں ۔ انہوں نے موجودہ انتظامیہ پر تنقید کی اور کہا کہ شہر کا بنیادی ڈھانچہ زوال کا شکار ہے۔ حالیہ برفباری میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور کچرے کے انتظام میں شدید بدانتظامی دیکھنے میں آئی، جو شہری مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ خود کو غیر روایتی اور آزاد امیدوار قرار دیتے ہوئے رینی نے واضح کیا کہ انہیں کسی بڑی جماعت کی پشت پناہی حاصل نہیں، تاہم وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے نئی سوچ اور عملی قیادت پر یقین رکھتی ہیں ۔ رینی سمپت نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے خاندان، خصوصاً اپنے والد اور دادا کو دیا اور کہا کہ ہندوستانی اقدار اور خاندانی تربیت نے انہیں عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار کیا ہے ۔ماہرین کے مطابق رینی سمپت کی امیدواری امریکہ میں بھارتی اور جنوبی ایشیائی برادری کی بڑھتی سیاسی شمولیت کی عکاس ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں برادری کی نمائندگی کانگریس اور ریاستی سطح پر بڑھی ہے، تاہم بڑے شہروں کے میئر کے انتخابات میں ان کی موجودگی محدود رہی ہے۔