نئی دہلی ۔ کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان خطابی میچ نے کروڑوں ہندوستانی شائقین کے دل توڑ دیے۔ ایمرجنگ ایشیا کپ کے فائنل میں ہندوستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی ٹیم پاکستان کے خلاف 128 رنزکے بڑے فرق سے ہارگئی۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے352 رنز بنائے اور ہندوستانی ٹیم صرف 224 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ ٹیم کی اس شکست کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس کا جواب پچھلے 10 سال سے نہیں مل سکا ہے؟ سوال یہ ہے کہ ناک آؤٹ میں ہندوستانی ٹیم کا دم گھٹتا کیوں ہے؟ آخر ٹورنمنٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والی ٹیم کرو یا مروکے میچوں میں کیوں ناکام ہو جاتی ہے؟ ہندوستان کی سینئر مردوں کی ٹیم ہو، انڈر 19 ٹیم ہو یا ابھرتی ہوئی مردوں کی ٹیم ، سبھی نے پچھلے 10 سال میں خطاب جیتنے کے جملہ 13مواقع کھوئے ہیں۔ تینوں ہندوستانی ٹیمیں مجموعی طور پر13 مرتبہ فائنل یا سیمی فائنل میچ ہار چکی ہیں۔ اب ناک آؤٹ میں شکست کا چرچا ہے تو سب سے پہلے ابھرتی ہوئی ٹیم کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستان کی ابھرتی ہوئی ٹیم سال 2013 میں پہلی بار ایشین چیمپئن بنی لیکن اس کے بعد یہ ٹیم چار مرتبہ باہر ہوئی ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ اسے مسلسل تین بار ناک آؤٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2018 میں سری لنکا کو فائنل میں شکست دی تھی جس کے بعد پاکستان سے 2019 میں سیمی فائنل میں شکست ہوئی ۔2023 میں ایک بار پھر فائنل میں پاکستان کے خلاف ناکام ہوئی ہے ۔دوسری جانب سینئر ٹیم نے 10 سال سے آئی سی سی ٹرافی نہیں جیتی۔ ناک آؤٹ میچوں میں دم توڑنے کا یہ سلسلہ سینئر ٹیم سے ہی شروع ہوا ہے۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے آخری بارسال 2013 میں آئی سی سی ٹرافی جیتی تھی اور اس کے بعد سے وہ 9 بار فائنل یا سیمی فائنل میں ہار چکی ہے۔ 2014 میں ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل میں شکست، جس کے بعد ہندوستان 2015 میں ونڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ہارگیا تھا۔ ہندوستان کو 2016 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں شکست ہوئی تھی۔ 2017 میں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں شکست ہوئی تھی۔ 2019 میں ایک بار پھر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں شکست جس کے بعد 2021 میں ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں شکست۔ ہندوستان کو 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھی شکست ہوئی تھی۔ 2023 ورلڈ ٹسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں شکست تازہ ترین غم ہے۔علاوہ ازیں اب بھی انڈر19 ٹیم کی کارکردگی پچھلے 10 سال میں قدرے بہتر ہے۔ انڈر 19 ورلڈ کپ میں ٹیم نے پانچ میں سے 2 فائنل جیتے ہیں۔ تاہم وہ دو بار فائنل میں بھی ہارے ہیں۔ 2016 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست ہوئی۔ 2020 ورلڈ کپ فائنل میں شکست بھی درج ہے ۔ واضح ہوکہ ہندوستانی ٹیم جملہ 13 ٹرافی جیتنے سے محروم رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ فائنل میچ میں لیگ میچز میں شاندار کارکردگی دکھانے والے ہندوستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا بی سی سی آئی اس مسئلے کو ایک مسئلہ سمجھ رہا ہے؟ اور اگر اسے مسئلہ سمجھا جائے تو اس کے حل کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ ان سوالات کے جواب نہ ملے تو شائقین ناک آؤٹ میں ناکامی کا درد محسوس کرتے رہیں گے۔ خیال رہے کہ ورلڈ کپ بہت قریب ہے، اس بار ایونٹ بھی صرف ہندوستان میں ہورہا ہے۔ ایسے میں ٹیم پر امیدوں کا دباؤ رہے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر ٹیم سیمی فائنل یا فائنل میں پہنچتی ہے توکیا وہ ناک آؤٹ میں بکھر جائے گی یا پھلے پھولے گی۔