تلنگانہ میں سبز انقلاب ہنوز مرکز کی پالیسیوں سے کسانوں کو مشکلات، سرسلہ میں دھرنا پروگرام سے خطاب
گمبھی راؤ پیٹ۔ راجنہ سرسلہ ضلع مستقر پر آج ریاست کی برسر اقتدار پارٹی ٹی آر ایس کی جانب سے مرکزی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف تلنگانہ رعیتو مہا دھرنا پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ جس میں حلقہ سے نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی و ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق انفارمیشن ٹکنالوجی کے تارک راما راؤ نے شرکت کی۔ سرسلہ بائی پاس روڈ کے قریب کھلے میدان میں انجام دیئے گئے اس دھرنے میں بڑے پیمانے پر کسان برادری کے علاوہ ٹیسکوپ چیرمین کے رویندر راو، ضلع پریشد چیرپرسن اورونا راگھو اریڈی کے علاوہ پارٹی قائدین و کارکنان جن میں زیڈ پی ٹی سی ارکان، منڈل پریشد صدور ، ایم پی ٹی سی ارکان، سرپنج وغیرہ نے شرکت کی۔ دھرنے کو کے ٹی راما راؤ نے مخاطب کرتے ہوئے ریاست بھر میں ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے کسانوں کے مفاد میں روبہ عمل لائی گئی فلاحی اسکیمات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کے کاشتکاروں کو مستحکم کرنے کیلئے کئی فلاحی اسکیمات کو متعارف کیا جس کی سابق میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ کے سی آر زرعی شعبہ میں ترقی دیتے ہوئے سبز انقلاب کے تحت تلنگانہ میں کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کا جو بیڑا اٹھایا ہے اس کو کسی بھی صورت میں بھلایا نہیں جاسکتا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ایشیا میں تلنگانہ میں تعمیر کردہ کالیشورم پراجکٹ سرفہرست کہلایا جانے لگا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ایشیا کے اندر لفٹ ایرگیشن کے نام پر اس طرح کا پراجکٹ کبھی بھی تعمیر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج مرکزی حکومت کی مخالف کسان پالیسیوں سے کاشتکاروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کے سی آر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی صورت میں تلنگانہ میں کاشت کرنے والی دھان کی فصل کی خریدی سے متعلق انکار کئے جانے کے معاملے سے دستبرداری اختیار کریں۔ کے ٹی آر نے ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجے پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے فصل کی کاشت خریدنے سے انکار کیا جاتا ہے تو تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر مرکزی حکومت کے خلاف اجتماعی پروگراموں کو روبہ عمل لانے کا اعلان کیا۔ کے ٹی راما راؤ نے ریاست کے بی جے پی قائدین کے من گھڑت بیانات پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بنڈی سنجے کو صرف دو ہی باتیں آتی ہیں ایک تو ہندوستان، پاکستان، اور دوسرا ہندو مسلم ۔ وہ ہمیشہ آپس میں نفرت پھیلانے کے علاوہ دوسرا کام انجام ہی نہیں دیتے۔ انہوں نے بنی سنجے سے مطالبہ کیا کہ وہ دم رکھتے ہوں تو تلنگانہ میں دھان کو مرکزی حکومت پر خریدنے کیلئے اپنا دباؤ بنائیں۔ اس موقع پر ضلع پریشد کوآپشن رکن محمد احم
