ہندوستان آج انگلینڈ کیخلاف ایک اور کامیابی کا خواہاں

   

لکھنو۔ جب ورلڈ کپ کے شیڈول کا جون میں اعلان کیا گیا تھا، تو شاید کرکٹ شائقین نے 29 اکتوبرکو اپنے کیلنڈر پر ہندوستان اور انگلینڈ کے تصادم کو بڑے میچ کے طور پر نشان زد کیا ہوگا کیونکہ میزبان کا دفاعی چمپئنز سے مقابلہ ہے لیکن اب یہ وہ اہمیت نہیں رکھتا۔ ہندوستان نے ٹورنمنٹ سے پہلے خود کو خطاب کیلئے سب سے پسندیدہ ٹیم بنا لیا ہے جیسا کہ اس نے پانچ میں سے پانچ میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل میں ٹاپ ٹو پر نظر آتے ہیں لیکن اسکرپٹ اس طرح سے تیار نہیں ہوا جس طرح سے کسی نے انگلینڈ کے تعلق سے سوچا تھا، موجودہ چمپئن پانچ میں سے چار میچ ہارنے اورایونٹ سے جلد باہر ہونے کی ڈگر پر ہے۔ گزشتہ ہفتے ایچ پی سی اے اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف چار وکٹوں کی فتح کے بعد دھرم شالہ کے ٹھنڈے ماحول میں آرام کرنے کے بعد ہندوستان نے اپنی جیت کی رفتار کو جاری رکھنے کے لیے لکھنؤ میں پچھلے دو دنوں سے پسینہ بہاتے ہوئے اتوار کے مقابلے میں حصہ لیں گے۔ ان کے بیٹرس کپتان روہت شرما سے لے کر ویراٹ کوہلی اور وکٹ کیپر کے ایل راہول تک، زبردست فارم میں ہیں ۔ جسپریت بمراہ فاسٹ بولنگ شعبہ کی قیادت کرتے ہوئے اپنے مہلک بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، محمد سمیع نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار پانچ وکٹوں کے ساتھ فوری اثر چھوڑا ہے۔ رویندرا جڈیجہ اور کلدیپ یادیو اسپن بولنگ کے شعبے میں انتہائی موثر رہے ہیں۔ ہاردک پانڈیا کے بائیں ٹخنے کی چوٹ کی وجہ سے ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔ دھرم شالہ میں ہاردک کی غیر موجودگی کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان کو سوریا کمار یادیو اور محمد سمیع کو لا کر اس کے خلا کو پْرکیا تھا اور شاردول ٹھاکر کو باہرکر دیا گیا۔ اگر لکھنؤ کی پچ اسپنرزکو مدد فراہم کرتی ہے، تو روی چندرن اشون تصویر میں آسکتے ہیں، حالانکہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا ہندوستان صرف دو فاسٹ بولروں میدان میں اترنے کا فیصلہ کرے گا۔ دوسری طرف بہت سے لوگ ونڈے ورلڈ کپ میں ستاروں سے بھرے انگلینڈ سے بڑے اسکور اور باقاعدہ اسٹرائیک کی پارٹی کے منتظر تھے لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف ٹورنمنٹ کے افتتاحی میچ میں شکست کے بعد افغانستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا سے شکست نے ان کی مہم کو تہس ونہس کردیا ہے۔ ایان مورگن کی قیادت میں انگلینڈ ونڈے کرکٹ کا رجحان ساز بنا، جس نے بیٹ اورگیند کے ساتھ آل آؤٹ حملہ آور انداز کو فیشن ایبل بنایا اور دنیا نے انہیں 2019 میں لارڈز میں ایک ڈرامائی فائنل میں ورلڈ کپ جیتتے دیکھا۔ 2023 میں جوس بٹلر کی قیادت میں ان سے بہت کچھ کی توقع کی جا رہی تھی لیکن ان کی مہم انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ ایک پہلو جو ان کی مہم میں نمایاں ہے وہ مسلسل کاٹنا اور بدلنا ہے، جس میں انگلینڈ نے اپنے اسکواڈ کے تمام ارکان کو چارمقابلوں میں استعمال کیا جبکہ پلیئنگ الیون میں ماہرین اور آل راؤنڈرز کے درمیان انتخاب اہم مسئلہ رہا ہے۔ انگلینڈ نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنی جیت کے لیے نیوزی لینڈ سے ہارنے کے بعد ایک تبدیلی کی۔ یہ دوسرے سے تیسرے گیم تک پلیئنگ الیون میں تین تبدیلیاں ہوئیں، جس نے انہیں افغانستان سے ہارتے دیکھا۔