ہندوستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض تیل کی خرید و فروخت پر مبنی نہیں

   

Ferty9 Clinic

دونوں ملکوں کے درمیان کلیدی شراکت داری قائم ۔ توانائی ، لیبر ، زراعت ، واٹر ٹکنالوجیز و دیگر شعبوں میں تعاون جاری :وزیراعظم مودی
مختلف سعودی وزراء کی مودی سے ملاقات

ریاض ۔29 اکٹوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان اب محض تیل کے خریدار اور بیوپاری کے تعلقات نہیں رہے بلکہ دونوں ممالک قریب تر کلیدی روابط کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال سلطنت ہندوستان میں تیل اور گیس کے پراجکٹس میں سرمایہ لگارہی ہے ۔ سعودی عرب ہندوستان کے لئے عراق کے بعد تیل کا دوسرا سب سے بڑا سپلائر ہے ۔ مالی سال 2018-19 ء میں سعودی نے ہندوستان کو 40.33 ملین میٹرک ٹن خام تیل فروخت کیا ہے جبکہ ایک سال میں 207.3 ملین ٹن تیل کی مقدار کا اضافہ ہوا ہے ۔ وزیراعظم نے اخبار عرب نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان اپنے خام تیل کا تقریباً 18 فیصد حصہ سلطنت سعودیہ سے درآمد کرتا ہے ۔ وزیراعظم پیر کی شب یہاں پہونچے تاکہ کلیدی فینانشیل کانفرنس میں شرکت کرسکیں اور اعلیٰ سعودی قیادت کے ساتھ بات چیت منعقد کی جائے ، چنانچہ سعودی عرب کے اعلیٰ وزراء نے آج دارالسلطنت میں وزیراعظم مودی سے ملاقات کی اور مختلف شعبوں جیسے توانائی ، لیبر ، زراعت اور واٹر ٹکنالوجیز میں باہمی روابط میں مزید گہرائی لانے کے طریقوں پر غور و خوض کیا جاسکے ۔ وزیر توانائی پرنس عبدالعزیز بن سلمان ، وزیر لیبر اور سماجی بہبود احمد بن سلیمان الراجحی اور وزیر ماحولیات ، آبی وسائل اور زراعت عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی اُن وزراء میں شامل ہیں جنھوں نے مہمان لیڈر سے ملاقات کی ۔ وزیراعظم کے دفتر نے ٹوئٹ میں بتایا کہ سعودی وزیرتوانائی کی وزیراعظم مودی کے ساتھ ثمرآور میٹنگ ہوئی اور دونوں قائدین نے دونوں اقوام کے درمیان توانائی سے متعلق تعاون کو بہتر بنانے کی کوششوں پر بات کی ۔ اس میٹنگ کی اہمیت ہے کیونکہ دونوں ملکوں نے مہاراشٹرا کے رائے گڑھ میں ویسٹ کوسٹ ریفائنری پروجکٹ کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں سعودیہ کی بڑی تیل کمپنی آرامکو ، یو اے ای کی ابوظہبی نیشنل آئیل کمپنی اور انڈین پبلک سیکٹر کی تیل کمپنیاں شراکت داری کریں گی ۔ وزارت اُمور خارجہ کی ترجمان راویش کمار نے کہاکہ وزیراعظم مودی کے دیگر سعودی وزراء کے ساتھ بھی مفید اجلاس منعقد ہوئے ۔ مودی نے احمد بن سلیمان الراجحی کے ساتھ لیبر کے مختلف اُمور اور اُن کے مسائل پر تبادلۂ خیال کیا ۔ سعودی عرب میں 2.6 ملین کی طاقتور ہندوستانی کمیونٹی برسرکار ہے جو سلطنت میں سب سے بڑی تارک وطن برادری ہے ۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ سعودیہ میں ہندوستانی کمیونٹی کی سخت محنت اور اُن کے اخلاص نے اس سلطنت کو ترقی پانے میں مدد کی اور دونوں اقوام کے درمیان باہمی رشتہ مضبوط ہوا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ان تارکین وطن کے علاوہ بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری حج اور عمرہ کے لئے ہر سال سعودی سلطنت آتے ہیں اور بعض لوگ بزنس کے مقاصد سے بھی اس سلطنت کا دورہ کرتے ہیں۔ ہندوستانی برادری کیلئے اپنے پیام میں مودی نے کہاکہ انڈیا کو فخر ہے کہ آپ تمام نے سلطنت میں اپنا تعمیری رول ادا کرتے ہوئے نہ صرف خود کیلئے مقام بنایا بلکہ مجموعی طورپر قوم کی اچھی نمائندگی کی ہے ۔ انھوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ہندوستانی برادری سلطنت میں اسی طرح کام کرتے ہوئے باہمی روابط میں مضبوطی کا سبب بنتی رہے گی ۔