ہندوستان بات چیت کا خواہاں، پاکستان کشمیریوں کو فریق بنانے بضد

   

Ferty9 Clinic

آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد انڈین میڈیا کو پہلی بار پاکستانی عہدیدار معید یوسف کا انٹرویو

نئی دہلی ؍ اسلام آباد: جموں و کشمیرمیں اگسٹ 2019ء میں دستوری تبدیلیوں کے بعد کسی پاکستانی عہدیدار نے انڈین میڈیا کو پہلی بار انٹرویو میں انکشاف کیا کہ حکومت ہند نے پاکستان کو بات چیت کیلئے آمادگی کا پیام بھیجا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی اور کلیدی پالیسی منصوبہ بندی معید یوسف نے بتایا کہ ہمیں بات چیت کیلئے ہندوستان سے پیام ملا تھا لیکن انہوں نے تفصیلات کے انکشاف سے انکار کیا۔ تاہم؟ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کی بات چیت میں کشمیریوں کو ضرور تیسرا فریق بنانا چاہئے ورنہ بات چیت میں پہل مشکل ہے۔ انہوں نے واضح بھی کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے موضوع پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔ ’دی وائر‘ کو 75 منٹ کے انٹرویو میں وسیع تر موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ یوسف نے کرن تھاپر کو بتایا کہ ہمیں سلجھے ہوئے فریقوں کی مانند مل بیٹھ کر بات کرنا چاہئے۔ پاکستان امن کا علمبردار ہے اور اسی سمت آگے بڑھنے کا خواہاں ہے۔ تاہم، انٹرویو میں یوسف نے بار بار اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کی کہ کشمیریوں کو بات چیت میں تیسرا فریق بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ دو پیشگی شرائط ہیں کہ ہندوستان کو کشمیر کا ملٹری محاصرہ ختم کرنا ہوگا اور سکونت سے متعلق نئے قانون کو واپس لینا ہوگا۔ ایک موقع پر یوسف نے ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول پر تنقید کی اور کہا کہ میرا ہندوستان میں میرے ہم منصب کے ساتھ تقابل کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے وزیراعظم عمران خان کیلئے سیاسی گنجائش کو وسعت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوسف سے مختلف موضوعات پر بھی سوالات کئے گئے جیسے گلگت ۔ بلتستان کو مکمل صوبہ کا درجہ دینے سے متعلق اسلام آباد کے قول و فعل میں تضاد ۔ ان سے پوچھا گیا کہ اس پس منظر میں پاکستان کس طرح مطالبہ کرسکتا ہیکہ آرٹیکل 370 کی تنسیخ کو ختم کیا جائے جبکہ اسے دنیا کے دیگر مسلم گوشوں (ماسوائے ملیشیا اور ترکی) کچھ حمایت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کشمیر میں نسل کشی اور قطعی حل ڈھونڈنے کے بارے میں بولتے ہیں لیکن چین میں ایغور مسلمانوں کی زبوں حالی کے تعلق سے خاموش ہے۔ کلبھوشن جادھو اور ممبئی دھماکے کیس میں سست پیشرفت کے بارے میں بھی یوسف نے سوالات کے جواب دیئے۔