ہندوستان بھر میں 6,500جعلی بینک اکاؤنٹس کا جال

   

ممبئی ، 17 اکتوبر (یو این آئی) سائبر گھپلے کی ایک بڑی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک 72 سالہ شیئر ٹریڈر کو ‘ڈیجیٹل گرفتاری’ کے جھوٹے اسکینڈل میں مبتلا کر کے 58 کروڑ روپے سے محروم کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق، مجرموں نے ہندوستان بھر میں 6,500 بینک اکاؤنٹس کے جال کے ذریعے رقم کو منتقل کیا تاکہ فوری کارروائی سے بچا جا سکے ۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ مجرموں نے بینکوں سے چیک نکالنے اور دیگر جدید طریقے استعمال کر کے متعدد اکاؤنٹس میں لین دین کی ڈیجیٹل ٹریل توڑ دی۔ ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ رقم چیک کے ذریعے نکلوا کر غیر منسلک کھاتوں میں جمع کرائی جاتی تھی، جس سے رقوم کی متقلی کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا تھا۔ 72 سالہ متاثرہ کو پہلی بار 19 اگست کو جعلی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی اہلکاروں کی جانب سے کالز آئیں، جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کے اکاؤنٹس میں غیر قانونی فنڈز موجود ہیں۔ دھوکہ بازوں نے جوڑے کو مخصوص بینک اکاؤنٹس میں رقوم منتقل کرنے پر آمادہ کیا اور واپسی کا وعدہ بھی کیا۔ 19 اگست سے 8 اکتوبر کے درمیان RTGS کے ذریعے 58.13 کروڑ روپے مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے ۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا کہ یہ رقم مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں 18 بینک کھاتوں کے ذریعے تقسیم کی گئی۔ تحقیقات کے بعد تین اکاؤنٹ ہولڈرز کو ملاڈ، چیرا بازار اور ممبئی سینٹرل سے گرفتار کیا گیا جبکہ جمعرات کو مزید چار مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پولیس زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ بڑے آپریشن کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچا جا سکے ۔