عرب ملکوں کیساتھ روابط کی بحالی تاریخی پیشرفت۔ فلسطینیوں کو حقیقت پسندانہ سوچ کی ضرورت
نئی دہلی : اسرائیلی قاصد ران مالکا نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے اثر میں مسلسل اضافہ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیاء اور بالخصوص اسرائیل کے بشمول عالمی اُمور کے بارے میں اِس ملک کا کلیدی موقف دیگر ملکوں کے لئے دلچسپ مثال بن رہے ہیں اور کئی ممالک اِس کی تقلید بھی کررہے ہیں۔ مالکا نے کہاکہ اسرائیل کے ہندوستان کے ساتھ گہرے تعلقات کا دیگر ملکوں کے ساتھ اِس میں روابط پر مثبت اثر پڑرہا ہے جن میں عرب دنیا شامل ہے۔ انڈو ۔ اسرائیل اشتراک مختلف شعبوں میں ہورہا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل باہمی طور پر فائدہ مند دوستی کرسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ انٹرویو میں اسرائیل کے سفیر برائے ہند مالکا نے مزید کہاکہ اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان خیرسگالی روابط کا قیام ظاہر کرتے ہوئے دنیا جان رہی ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے خوابوں کی دنیا سے نکل کر یہودی مملکت کو تسلیم کرلینا چاہئے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کی بحالی حالیہ عرصہ کا نمایاں اقدام ہے۔ مالکا نے کہاکہ امن ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے اور ہمیں اِسی سمت میں ملکر آگے بڑھنا ہوگا۔ پڑوسیوں کو ساتھ لینا ضروری ہے۔ دنیا کو یہی توقع ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ بعض سیاسی تنظیمیں ایسا باور کرارہی ہیں کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑا پایا جاتاہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مقامی سطح پر علاقائی جھگڑا ضرور ہے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مالکا نے کہاکہ ہندوستان پر منحصر ہے کہ آیا وہ مغربی ایشیاء امن مساعی میں کوئی فعال رول ادا کرنا چاہتا ہے یا نہیں لیکن اِس کی موجودہ متوازن پالیسی پہلے ہی ملک کو دنیا میں بااثر مقام دلاچکی ہے۔
