ہندوستان سیمی فائنلز میں کیسے پہنچے گا ؟

   

نئی دہلی ۔ہندوستانی ٹیم کو ہفتہ کے دن رواں ورلڈ کپ ٹورنمنٹ کی ناقابل تسخیر ٹیم آسٹریلیا کا سامنا کرنا ہے اور گزشتہ مقابلے میں انگلینڈ کے خلاف ہوئی شکست کے بعد اس کی سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات کو شدید نقصان ہوا ہے اورکل آسٹریلیا کے خلاف شکست کا مطلب ہوگا اس کیلئے سیمی فائنل کی راہ اور میں سنگلاخ ہوجائے گی۔ ہندوستانی خواتین کی ٹیم رواں ونڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کیسے رسائی حاصل کرسکتی ہے یہ سوال اب اور بھی دلچسپ ہوچکا ہے ؟ناک آؤٹ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے جملہ 4 فتوحات کافی سمجھی جاتی ہیں اور ہندوستانی ٹیم نے دو جیت پہلے ہی حاصل کرچکی ہے اور ہندوستان کو اپنے باقی تین میں سے کم ازکم دو میچ جیتنے ہوں گے۔ ان میں سے ایک میچ طاقتور آسٹریلیا کے خلاف ہوگا ہفتہ کو ہونے والا ہے ۔جب تک ٹیم بڑے فرق سے کامیابی حاصل نہیں کرتی اور کم از کم باقی دوحریفوں کے خلاف جیت انہیں سیمی فائنل میں لے جا سکتی ہے۔ آسٹریلیا کے علاوہ ہندوستان کو اپنے بقیہ لیگ مرحلے کے مقابلوں میں بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ سے کھیلنا ہے۔ ان دونوں حریفوں کے خلاف ہندوستان کوکافی بڑے فرق سے کامیابی کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ اگلے راؤنڈ میں کون جاتا ہے اس کا فیصلہ کرنے میں رن ریٹ بڑا کردار اداکر سکتا ہے۔ رواں ٹورنمنٹ میں اس وقت آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ دو مضبوط ٹیموں کی طرح نظرآ رہی ہیں اور ان کی سیمی فائنل میں رسائی عملاً ہوچکی ہے ۔ سیمی فائنل کے بقیہ دو مقامات کیلئے ہندوستان، میزبان نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور دفاعی چمپئن انگلینڈ کے درمیان مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔متھالی راج کا رن اسکورنگ ڈرافٹ ہو یا شفالی ورما کا خراب فارم، ہندوستانی ٹیم کے متعدد اسٹارکھلاڑی اب تک مہم میں امیدوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیںحالانکہ سمرتی مندھانا، ہرمن پریت کور اور جھولن گوسوامی جیسی کھلاڑیوں نے شائقین کو یہ یقین دلایا ہے کہ ٹورنمنٹ میں اب بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن انگلینڈ کے خلاف 4 وکٹوں کی شکست کے بعد ہندوستان واقعی ایک اور شکست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ہندوستانی ٹیم ٹیم فی الحال +0.632 کے نیٹ رن ریٹ (این آرآر) کے ساتھ 8 ٹیموں کے جدول میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دوسرے نمبر پر موجود جنوبی افریقہ اور ساتویں نمبر پر موجود بنگلہ دیش کو چھوڑکر جنہوں نے تادم تحریر تین تین میچ کھیلے ہیں، باقی تمام 6 ٹیموں نے 4،4 میچ کھیلے ہیں اور اس کے بعد آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے سیمی فائنلزمیں رسائی کے امکانات روشن ہیں۔