۔4 وزراء کی مخالفت پر پاکستانی کابینہ کا فیصلہ، اجلاس میںگرما گرم مباحث
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کابینہ نے ہندوستان سے شکر اور کپاس درآمد کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ کابینی اجلاس میں ہندوستان سے شکر، کپاس منگوانے کا معاملہ زیر بحث آیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ہندوستان سے شکر اور کپاس درآمد کرنے کی سفارش پر غور کیا گیا جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ہندوستان سے سستی شکر منگوانے کی سفارش کی تھی۔ کابینہ کے ارکان نے ای سی سی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان سے تعلقات کے حوالے سے جو مسائل ہیں ایسے میں ہندوستان سے یہ چیزیں منگوانا کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوگی۔کابینہ نے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 سے پہلے کی آئینی صورتحال بحال کرے، آرٹیکل 370 کی بحالی تک ہندوستان سے کسی قسم کی تجارت نہیں ہو سکتی۔ کابینہ کی جانب سے سمری مسترد کیے جانے کے بعد وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مناسب داموں پر دیگر ممالک سے چینی اور کپاس کی درآمد کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ سے رائے طلب کی تھی کہ آیا ہندوستان سے شکر برآمد کی جائے یا نہیں۔ 4 وزراء نے شکر اور کپاس کے درآمد کی مخالفت کردی۔ کابینی اجلاس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شیخ رشید اور شیرین مزاری نے مخالفت کی۔ وزراء نے کہا کہ جب تک کشمیر میں پرانی حالت بحال نہیں کی جاتی ہندوستان سے کے ساتھ کوئی تجارت نہیں ہوگی۔ شاہ محمود قریشی نے تجارت کے معاملے میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اس پر کئی وزراء نے ان چار وزراء کے موقف کی تائید کی۔