ہندوستان عملی طور پر ایک سیکولر جمہوریت

   

بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں حکومت کے تعصب برتنے کا کوئی ثبوت نہیں : اسٹڈی

نئی دہلی : ہندوستان میں سہولتوں سے متعلق پروگراموں اور ان کی اثر انگیزی کے ایک معروضی جائزے نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ہندوستان کی سیکولر جمہوریت نے تمام بھارتیوں تک بلا امتیازبنیادی سہولتوں کی رسائی اور دستیابی کو یقینی بنایا ہے ۔ یہ انکشاف ای اے سی- پی ایم کی رکن شمیکا روی کے مقالے سے ہوا ہے جس میں 2015-2016 کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا گیا ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے یہ ثابت ہو کہ حکومت نے 2015-2016 سے 2019-21 تک صرف ایک کمیونٹی یا مذہبی طبقے کی ضرورتوں کو پورا کیا ہے ۔ بجلی، بینک کھاتے ، موبائل، اور بیت الخلاء تک رسائی جیسی سہولتوں کے فوائد تمام مذاہب اور سماجی گروپوں میں بڑے پیمانے پر بہم پہنچائے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض صورتوں میں اقلیتوں نے اکثریت سے زیادہ فوائد حاصل کیے ہیں۔ مطالعے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کو ایک جامع معاشرے کو یقینی بنانے کے لیے نادار ترین 20 فیصد افراد کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنا جاری رکھنی چاہیے ۔ہندوستان، ممالک کو جمہوری حکومتوں میں درجہ بند کرنے کے چاروں روایتی بنیادی معیارات، یعنی :عالمی حق رائے دہی، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، اقتدار کی پرامن منتقلی، اور حکومت، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم، پر پورا اترتا ہے ۔تاہم، جیسا کہ مطالعے میں جمہوریت کے کام کاج کو درست کرنے یا معروضی طور پر اندازہ لگانے میں استدلال کیا گیا ہے کہ آیا جمہوری حکومتوں کے اندر جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے یا کمزور ہو رہی ہے ۔ اسے درست کرنے کے لیے بین الاقوامی جائزے بنیادی طور پر ماہرین تعلیم، پیشہ ور افراد اور سول سوسائٹی کے اراکین کے تاثرات پر مبنی جائزوں کے ذریعہ انجام دیے جاتے ہیں۔ ان جائزوں کی معنویت میں اضافہ کرنے اور قابل استعمال بنانے کے لیے ، اسے معروضی اشارے اور موضوعی تصورات دونوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں نمائندوں اور تعین مقدار سے متعلق تشویش کو دورکرنے کی ضرورت ہے ۔400 سے کم ووٹروں پر مشتمل یکساں ثقافت کے حامل چھوٹے سے ملک ناروے کے ساتھ ، 900 ملین سے زائد رائے دہندگان، 100 سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں، اور نمایاں ثقافتی، سماجی اقتصادی اور جغرافیائی تنوع کے حامل ہندوستان جیسی بڑی جمہوریت کا موازنہ کرنے کے لیے مختلف طریقہ کار اور پس منظر کی تفہیم کی ضرورت ہے ۔لہذا، ہندوستان کی جمہوریت کے کام کاج کو معروضی طور پر سمجھنے کے لیے متنوع سماجی و اقتصادی پس منظر سے اعدادو شمار کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ پسماندہ آبادیوں پر توجہ مرکوز کرنے سے منتخبہ حکومتوں کی تمام شہریوں کی ضروریات کے لیے ردعمل ظاہر ہو سکتا ہے ۔جمہوریت کو مضبوط کرنے کا مطلب اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بااثر اور اونچے طبقہ کے ہاتھوں کمزور اور پسماندہ لوگوں کی آوازیں خاموش نہ ہوں۔ بنیادی سہولتوں تک رسائی فراہم کرنے سے انفرادی پیداواری صلاحیت، اقتصادی ترقی اور عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔وزیر اعظم ہند کی ‘‘تکمیل’’ کی پالیسی کا مقصد ہر شہری کو ہر طرح کی بنیادی سہولت فراہم کرنا، امتیازی سلوک اور بدعنوانی کو کم کرنا ہے ۔