ہندوستان مذاہب کا حسین سنگم، یکجہتی قابل تعریف

   

Ferty9 Clinic

انڈین کلچرل سوسائٹی اور بزم عثمانیہ کی تقریب جشن آزادی ، سرکردہ شخصیتوں کی شرکت

حیدرآباد ۔ 18 اگست (راست) انڈین کلچرل سوسائٹی (جدہ) اور بزم عثمانیہ (جدہ سعودی عربیہ) کے زیراہتمام ایک شاندار تقریب جشن آزادی کا اہتمام 16 اگست جمعہ کو بعد نماز مغرب اردو ہال حمایت نگر میں کیا گیا۔ میزبان محفل جناب عارف قریشی (جدہ) نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ہم کہیں بھی رہیں وطن عزیز کی محبت وطن عزیز کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ رمضان اور بقرعید کے بعد ہمارا سب سے بڑا تہوار جشن 15 اگست اور 26 جنوری ہے۔ اس طرح کے پروگرامس میں ہم سب کو بلا لحاظ مذہب و ملت بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ جدہ سعودی عرب کی سرزمین پر منائے جانے والے تقریب جشن آزادی کا بھی تذکرہ کیا جو کئی برسوں سے مناتے آرہے ہیں۔ وہاں کی ادبی سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا اور پھر زمانہ تعلیم کی یادیں بھی تازہ کیں اور فرداً فرداً تمام مہمانوں اور سامعین کا استقبال کیا۔ جناب محمد محمود علی وزیرداخلہ ریاست تلنگانہ اسٹیٹ نے جشن آزادی کا کیک کاٹا اور سب کو مبارکباد دی اور اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ آزادی تو ہندوستان کو ملی سبھی قوم کے لوگ آزاد ہوئے اس آزادی کی جدوجہد میں دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے بھی بڑی بڑی قربانیاں دیں لیکن آج مسلمان اپنی تاریخ کو بھولتے جارہے ہیں۔ آزادی ملنے کے بعد سے لیکر اب تک مسلمان سنبھل نہیں سکے جب تک ہم تعلیم حاصل نہیں کریں گے خوشحال زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ سب سے زیادہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ ہوئی ہے اس کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں بیجا اخراجات شادی بیاہ میں کرتے ہیں اور تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ جناب باشاہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کیلئے ہماری قربانیوں کو یاد کرکے ہمارا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہم سب ہندوستانی ہیں فخر سے کہنا چاہئے۔ جناب اے کے خان مشیر برائے اقلیتی امور ریاست تلنگانہ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ تمام مذاہب کا حسین سنگم ہمارے ملک میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ طرح طرح کی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود ہم سب ایک ہیں مسائل اپنی جگہ ہیں لیکن اس کے باوجود ہماری یکجہتی قابل تعریف ہے۔ مہمان اعزازی جناب ای اسمعیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ انڈیا گیٹ پر 67 فیصد مسلم کے نام ہیں اور 33 فیصد دوسرے لوگوں کے نام ہیں۔ ہماری قوم کے کافی لوگوں نے اپنی قربانیوں کو پیش کرتے ہوئے ملک کو آزاد کرایا اس ملک میں رہنے والے تمام باشندے برابر کے حقدار ہیں۔ ان کے علاوہ ایس کے افضل الدین، جناب محمد رحیم اللہ خان نیازی نے بھی مخاطب کیا۔ شاعر ادیب ناظم اطیب اعجاز نے جلسہ و مشاعرہ کی کارروائی چلائی۔