پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)
ہمارے ملک میں حالات کیا ہیں کس طرح کا رخ اختیار کر رہے ہیں؟ معیشت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے یا وہ گراوٹ کی طرف رواں دواں ہیں اس بارے میں سب جانتے ہیں لیکن حکومت کے جو دعوے اور وعدے ہیں ان پر حیرت ہوتی ہے بہرحال ہمارے ملک کے لیے اچھی خبروں کی ایک لہر چل پڑی ہے اور حکومت یہ دعوی کر رہی ہے اپ کو بتا دیں کہ حکومت کے دعوے کے مطابق ریٹیل افراط زر 1.33 فیصد ہو گیا ہے قومی مجموعی پیداوار یا جی ڈی پی کی شرح نمو برائے سال 2025-26کا جو تخمینہ مقرر کیا گیا ہے وہ 7.4 فیصد ہے میں سمجھتا ہوں ہمیں ایک اور مرتبہ خوشی منانی چاہیے کیونکہ حکومت کے دعؤں کے مطابق ہندوستان میں کہیں بھی بے روزگاری نہیں پائی جاتی کم از کم اس قسم کی بے روزگاری تو نہیں پائی جاتی جو فکر و تشویش کا باعث بنے ملازمتیں حاصل کرنے والا کوئی نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے میرے پاس یہ کہنے کے لیے اچھی وجوہات ہیں کہ ہمارے ملک میں نوکریاں یا ملازمتیں بہت ہیں لیکن انہیں حاصل کرنے والے نہیں۔ ڈیٹا کا جائزہ لینے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اور سرکاری و عوامی کردار کے حامل شعبوں میں ہزاروں لاکھوں ملازمتیں یا نوکریاں ہیں لیکن انہیں حاصل کرنے والے امیدوار نہیں ہیں میرے پاس یہ کہنے کی معقول وجوہات ہیں کہ نوکریاں تو بہت ہیں لیکن ان کے لیے امیدوار دستیاب نہیں ہیں ،اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سرکاری اور نیم سرکاری شعبوں میں ہزاروں لاکھوں مخلوعہ ملازمتوں کے باوجود انہیں حاصل کرنے والوں کا فقدان پایا جاتا ہے، پرکشش تنخواہ اس بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اٹھویں پے کمیشن کے بعد تنخواہوں میں مزید اضافہ ہوگا کے ساتھ مہنگائی بھتہ،ہر سال تنخواہوں میں اضافہ ترقی کے بہترین مواقع،ملازمت کی سیکیورٹی،طبی سہولیات،ایچ ار اے یعنی ہاؤس رینٹ الاونس اور دیگر مراعات جن میں رخصت کے فوائد ایڈوانس قرض کی فراہمی اور یونیفائڈ پنشن اسکیم شامل ہے، کے باوجود نوجوان مرد و خواتین ان مخلوعہ جائیدادوں کو پر کر نے یا انہیں حاصل کرنے کہ خوا ہاں ہ نہیں ہیں اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس غیر معمولی صورتحال سے اپ کیا نتیجہ نکالیں گے اس کے سوا کہ یہاں بے روزگاری نہیں ہے اور نوکریاں حاصل کرنے والا کوئی نہیں ہے، وزارت تعلیم کے مطابق یکم اپریل 2024 تک مرکزی جامعات میں منظور شدہ اور خالی جائیدادیں کچھ اس طرح ہیں ان مرکزی جامعات میں تدریسی وہ غیر تدریسی جائیدادوں کے ضمن میں اپ کو بتا دیں کہ 18940 تدریسی عہدوں کی منظوری عمل میں ائی جبکہ غیر تدریسی منظورہ عہدوں کی تعداد 40356 ہے تدریسی عہدوں میں سے 5060 اور غیر تدریسی عہدوں میں سے 16729 خالی ہیں ان اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مرکزی جامعات یا سنٹرل یونیورسٹیز میں 27 فیصد تدریسی عہدے اور 47 فیصد غیر تدریسی عہدے مخلوعہ ہیں جون 2025 تک اگر دیکھیں تو کے وی ایس میں 7765 تدریسی عہدے اور این وی ایس میں 4323 تدریسی عہدے خالی تھے اس کے باوجود ہمیں اس بات کا یقین دلایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں تدریس اچھی طرح چل رہی ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے اگر دیکھا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سرکاری اعداد و شمار خود بولتے ہیں سارے ہندوستان میں ایسی مزید مثالیں موجود ہیں،سنٹرل امڈ پولیس فورس سی اے پی ایف میں کانسٹیبلوں کی 25487 جائیدادیں خالی ہیں راجستھان میں ایل ڈی سی یا کلرک گریڈ ٹو کی 10644 جائیدادیں ہیں اسی طرح بہار میں 12199 اتر پردیش میں کانسٹیبلوں کی 60244 جائیدادیں خالی ہیں ان پر بے روزگار نوجوانوں کی بھرتیوں کے کوئی انتظامات نہیں کیے جا رہے ہیں اب ہم اپ کو ریاست ٹاملنا ڈو لیے چلتے ہیں جہاں اسٹاف نرسس کی 2255 خالی جائیدادیں ہیں اور ان جائیدادوں کے حصول میں دلچسپی رکھنے والوں کا تعلق انتہائی متوسط طبقات سے ہوتا ہے جنہوں نے حال ہی میں ہائر سیکنڈری اسکول پاس کئے ہوتے ہیں یا گریجوکیشن کی تکمیل کی ہوتی ہے اگر ہم ال انڈیا انسٹیٹیوٹ اف میڈیکل سائنس میں ایجوکیشن چین کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں 3485 ایسے افراد ہیں جو فیکلٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اس کے برعکس ایک 1731 جائیدادیں خالی ہیں صرف ایک ضلع اڈیشہ کے ضلع کیندا میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس میں ایک ہزار سیاسی افراد مختلف عہدوں پر فائیز ہیں جبکہ 805 جائیدادیں خالی ہیں دوسری طرف بینکوں کی ملازمتوں کو بڑی پرکشش سمجھا جاتا ہے اور قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اپ کو بتا دیں کہ 12 پبلک سیکٹر بینکوں میں افسران کلرکس اور سب اسٹاف کی جملہ جائیدادیں اور مخلوعہ جائدادیں کتنی ہیں ان 12 بینکوں میں افسران کی جملہ جائیدادیں 430599 ہے جس میں خالی جائیداد کی تعداد 17500 بتائی جاتی ہے،کلرکس کی جملہ جائیدادیں 243817 ہے ان میں سے 12861 جائیدادیں خالی ہیں اسی طرح سب اسٹاف کی جملہ 84092 جائدادیں ہیں جن میں 2206 جائیدادیں خالی ہیں اب چلتے ہیں داخلی سلامتی،نگہداشت صحت اور بینکنگ شعبے کی طرف بے فکر رہیے ہماری داخلی سلامتی نگہداشت صحت اور بینکنگ شعبوں میں سب کچھ ٹھیک ہے یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اکتوبر 2024 میں پرائم منسٹر انٹرنشپ شروع کی گئی چنانچہ انگریزی کے موقر روزنامے دی ہندو میں 2 ڈسمبر 2025 کو شائع ایک رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ دو راؤنڈز میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے ایک لاکھ 65 ہزار افرز کی گئی اور ان میں سے صرف 20 فیصد قبول کی گئی اور جن افرز کو قبول کیا گیا ان میں سے 1/5 حصہ انٹرنشپ مکمل کرنے سے قبل ہی انٹرنشپ چھوڑ گیا ایسے میں انٹرنشپ کی ایک لاکھ 40 ہزار پیشکشیں امیدواروں کی منتظر ہیں لیکن ان سے استفادہ کرنے والے کوئی نہیں ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ بے روزگاری ترقی پذیر ہندوستان میں ایک مسئلہ نہیں وہ اس نقطے پر پہنچ کر پڑھنا بند کر سکتے ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بے روزگاری داخلی مسئلہ ہے وہ یقینا اگے پڑھ سکتے ہیں،منصفانہ بات یہ ہے کہ ایک طرف مخلوعہ جائیدادوں کا ہونا اور دوسری طرف بظاہر ہچکچاتے ہوئے روزگار کے متلاشی افراد کا ہونا صرف اور صرف بی جے پی حکومت کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا،یہ صورتحال کئی حکومتوں اور کئی دہوں پر محیط رہی ہے تا ہم بی جے پی کے دور حکومت میں دو ایسے واقعات پیش ائے ہیں جنہوں نے اس مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے اور سنگین بنا دیا ہے ان میں ایک تو نوٹ بندی اور دوسری کو وڈ کی عالمی وبا ہے،جہاں تک نوٹ بندی کا سوال ہے یہ ایک انسان کی خود بنائی ہوئی اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی ملک کی معیشت کو لگائی گئی گہری چوٹ تھی یہ حقیقت میں نوٹ بندی نہیں تھی کیونکہ کسی بھی کرنسی نوٹ کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا تھا اور نہ ہی اسے ہمارے نظام سے باہر کیا گیا تھا یہ دراصل پرانے نوٹوں کے بدلے نئی کرنسی نوٹ دینے کی ایک اسکیم تھی۔ جو کرنسی نوٹ سرکولیشن میں تھے ان کی مالیت 170 لاکھ کروڑ روپے تھی جبکہ دسمبر 2025 کے اخر تک یہ بڑھ کر 39.24 لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو گئی نوٹ بندی کا سب سے بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ اس سے لاکھوں چھوٹے اور متوسط کاروبار بند ہو گئے اور روزگار تباہ ہو گئے کووڈ نے بھی ہماری معیشت کو اور روزگار کے مواقعوں کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔