ہندوستان میں خواتین کی خوبصورتی پر سالانہ اخراجات میں اضافہ

   

مہاراشٹرا ، کرناٹک ، ٹاملناڈو اور دہلی سرفہرست، بیوٹیشنس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ
حیدرآباد ۔16 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں لائیف اسٹائیل کے بدلتے ہوئے رجحانات کے سبب خواتین کے خوبصورتی پر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاستوں کی معاشی صورتحال کے مطابق حسن پر خرچ کی جانے والی رقم بھی مختلف ہے۔ حالیہ برسوں میں خواتین میں خوبصورتی پر توجہ کا رجحان بڑھنے لگا ہے جو شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی یکساں طورپر دیکھا جارہا ہے۔ ملک کی تمام ریاستوں میں خواتین میں حسن اور زیبائش پر زائد خرچ کے سبب بیوٹیشنس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق مہاراشٹرا ، کرناٹک اور ٹاملناڈو میں خواتین کی جانب سے خوبصورتی پر سالانہ خرچ دیگر ریاستوں سے زیادہ ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں حسن اور زیبائش پر خواتین کی زیادہ توجہ اس اعتبار سے بھی باعث حیرت ہے کہ ان ریاستوں میں خواتین کے معاشی طور پر استحکام میں حکومتوں کی جانب سے کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ سروے کے مطابق کرناٹک میں خواتین ایک سال میں 5900 روپئے خوبصورتی پر خرچ کر رہے ہیں۔ ٹاملناڈو میں یہ رقم 5500 روپئے اور مہاراشٹرا میں 5000 روپئے ہے۔ دہلی میں حسن پر خواتین کا سالانہ خرچ 5200 روپئے ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مشرقی اور شمال مشرقی ریاستوں میں خواتین کی جانب سے شخصی سجاوٹ اور زیبائش پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ سروے کے مطابق اگرچہ زیادہ خرچ کرنے والی ریاستوں میں مہاراشٹرا ، کرناٹک ، ٹاملناڈو اور دہلی شامل ہیں لیکن حقیقی اخراجات کا جائزہ لیں تو وہ کافی زیادہ ہے۔ سروے میں بھلے ہی کن معیارات کو اختیار کیا گیا ہے لیکن شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں ایک خاتون کی خوبصورتی پر ہزاروں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ خواتین کو سجانے اور خوبصورت بنانے کیلئے بیوٹیشن کی فیس 10,000 روپئے سے زائد ہے۔ دلہن کی سجاوٹ کیلئے 20 تا 25 ہزار روپئے بھی بڑے شہروں میں چارج کئے جاتے ہیں۔ ملک کی مجموعی معیشت بھلے ہی کمزور کیوں نہ ہو لیکن خواتین اپنی سجاوٹ اور خوبصورتی پر اخراجات میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔1/k/a/b