سابق چیف جسٹس آف انڈیا کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لکچر
علی گڑھ (یوپی ) ۔ 4ستمبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف جسٹس آف انڈیا نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’انصاف پسند ہندوستان کی سمت پیشرفت ‘‘ کے عنوان پر دو روزہ سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے اظہارتشویش کیا کہ مقدمات کی یکسوئی کے سلسلے میں غیرضروری تاخیر ہورہی ہے جس کی وجہ سے عوام پر بھاری بوجھ پڑھ رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عاجلانہ بنیادوں پر انصاف رسانی کی ضرورت ہے تاکہ زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں اور عام آدمی پر پڑھنے والے بوجھ میں کمی کی جاسکے ۔ انھوں نے کہاکہ دیوانی مقدمات بھی طویل مدت تک جاری رہتے ہیں جو عوام کے بنیادی حقوق اور اُن کے خاندانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کی وجہ بنتی ہے ۔ وہ صدارتی خطبہ دے رہے تھے ۔ پروفیسر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی آنند کمار نے کہاکہ وہ پیسوں کی طاقت اور برسراقتدار افراد کے درمیان گٹھ جوڑ کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ یہ سمینار آج اختتام پذیر ہوا ۔