ہندوستان میں مذہبی آزادی پر بات چیت ٹرمپ کی اولین ترجیح

   

ہندوستان جیسے عظیم الشان جمہوری ملک کو جمہوری اور مذہبی اقدار کا پاس و لحاظ رکھنا چاہئے
وائیٹ ہاؤس اعلیٰ افسر کی میڈیا کانفرنس

واشنگٹن ۔22فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے دور روزہ دورۂ ہند کے دوران وزیراعظم ہند نریندر مودی کے ساتھ ملک میں مذہبی آزادی کے موضوع پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وائیٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ہندوستان کی جمہوری اقدار کی بہت زیادہ قدر کرتے ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ ہندوستان اُنہی اقدار کو برقرار رکھے جو ہندوستان کے وقار کو بلند کرتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ ٹرمپ کے پہلے دورۂ ہند سے قبل یو ایس کمیشن برائے انٹرنیشنل ریلیجنس فریڈم ، جو ایک امریکی وفاقی مجلس ہے ، نے حقائق پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ شہریت (ترمیمی) قانون نے ہندوستان میں مذہبی آزادی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے جسے ہم انحطاط کا نام ہی دے سکتے ہیں۔ لہذا صدر ٹرمپ عوامی سطح اور اُس کے بعد خانگی سطح پر (ہندوستانی لیڈروں سے ہونے والی ملاقات کے دوران ) ہند۔ امریکہ کے درمیان مشترکہ جمہوری اقدار اور مذہبی آزادی پر بھی بات چیت کریں گے جو یقینا ایک اہم موضوع ہوگا ۔ جمعہ کے روز وائیٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں کو یہ بات بتائی ۔ مذکورہ عہدیدار نے میڈیا نمائندوں سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی جہاں اُن سے استفسار کیا گیا تھا کہ کیا ٹرمپ نریندر مودی کے ساتھ سی اے اے اوراین آر سی کے موضوع پر بھی بات کریں گے ؟ یاد رہے کہ این آر سی کی تیاری آسام میں 24 مارچ 1971 ء یا اُس سے قبل سے رہنے والے حقیقی ہندوستانیوں اور غیرقانونی طورپر آنے والے بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیار کیا گیا تھا جبکہ سی اے اے کے مطابق پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو ، سکھ ، بودھ ، جین ، پارسی اور عیسائی برادری کو جو 31 ڈسمبر 2014 ء سے قبل ہندوستان آکر بس گئے اُنھیں ہندوستانی شہریت عطا کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ 24 اور 25فبروری کو احمدآباد، آگرہ اور نئی دہلی جائیں گے ۔ ٹرمپ کے دورہ کیلئے ہندوستان میں کافی تیاریاں چل رہی ہیں ۔ ٹرمپ نریندر مودی سے ہندوستان کی جمہوریت اور وہاں پائی جانے والی مذہبی آزادی کے موضوع پر ضروربہ ضرور بات کریں گے کیونکہ وہ خود بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ ہندوستان جیسے عظیم الشان جمہوری ملک کو اپنی جمہوری اقدار اور مذہبی آزادی کا بہرقیمت پاس و لحاظ رکھنا چاہئے ۔