ہندوستان میں نفرت2025کی شرمناک فاتح

   

Ferty9 Clinic

پی چدمبرم
سابق مرکزی وزیر داخلہ
سال 2025ء رخصت ہوچکا اور ہم سب نئے سال یعنی 2026ء میں داخل ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ سال کی بات کی جائے تو ہمارے لئے وہ بہت سارے یادگار لمحات اور ایسے یادگار واقعات چھوڑ گیا ہے جنہیں شائد ہم کبھی فراموش نہیں کرپائیں گے جبکہ نئے سال 2026ء میںکیا ہوگا ، اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن نئے سال سے اچھی امیدیں وابستہ رکھ سکتے ہیں ۔ جہاں تک سال 2025ء کی یادوں کا سوال ہے اس بارے میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ سال 2025 میں آپ کیلئے کونسی چیز یادگار رہی یا کونسا واقعہ ہے جو آپ کے اذہان و قلوب میں گہرائی تک سرائیت کرگیا ۔ ایک بات ضرور ہے کہ اکثر واقعات کچھ عرصہ تک یاد رہتے ہیں اور پھر فراموش کردیئے جاتے ہیں ۔ ان یادوں کو قلیل المدتی یادیں بھی کہا جاسکتا ہے ۔ اس ضمن میں ہم کئی مثالیں پیش کرسکتے ہیں ۔ اس معاملہ میں سب سے بہترین مثال پہلگام دہشت گردانہ واقعہ کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں یا ٹھکانوں کو تباہ کرنے کیلئے شروع کیا گیا آپریشن ’ سندور ‘ ہے ۔ ہماری قومی تحقیقاتی ایجنسی NIA کے مطابق پہلگام میں جو دہشت گردانہ حملہ کیا گیا دراصل وہ تین پاکستانی دراندازوں اور ان کا ساتھ دینے والے دو ہندوستانیوں کی کارستانی ہے ، جنہوں نے انہیں ( دہشت گردوں کو ) پناہ دی تھی ۔ اس دہشت گردی کا جواب جس طرح آپریشن سندور کی شکل میں دیا گیا وہ دراصل War of Choice تھی ۔ ایسی جنگ جس کا انتخاب صرف اور صرف دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کو سبق سکھانے کیلئے کیا گیا تھا ۔ ہندوستانی فضائیہ ، میزائلس اور ڈرونس نے پاکستانی فوجی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ، جواب میں ہندوستان کو بھی کچھ نقصان سے دوچار ہونا پڑا ( جو کسی بھی جنگ میں ناگزیر ہوتا ہے) ۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گردانہ واقعہ کے ذمہ دار تمام تین پاکستانی دراندازو ں کو انکاؤنٹر میں مار دیا گیا ۔ تاہم تحقیقات کے دوران جن دو ہندوستانیوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی دراندازوں کو پناہ دیتے ہوئے ان کی مدد کی تھی ، ان کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا کہ آخر ان لوگوں کا کیا بنا ؟ ۔
اس جنگ کے نتیجہ کے بارے میں شفافیت کا فقدان ہنوز پایا جاتا ہے ( اب تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ جنگ کس نے جیتی ہے ) ۔ آپ کو بتادیں کہ دہشت گرد ٹھکانوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے جو آپریشن سندور شروع کیا گیا وہ صرف چار دنوں تک جاری رہا اور کوئی خاص دیرپا اثر قائم نہ کرسکا ۔ سال 2025ء نے جیسا کہ راقم الحروف نے کہا ہے کہ کئی یادیں چھوڑ گیا چنانچہ دوسرا اہم یادگار واقعہ جو ہمارے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا ہے وہ محاصل یا Tariffs ہیں جس کی اطلاق 2 اپریل 2025ء سے شروع ہوا لفظ Tariff موضوع بحث بنا رہا اور جہاں لفظ Tariff کا استعمال ہوا اس کے ساتھ ایک اور لفظ کا بھی مسلسل استعمال ہوتا رہا اور وہ لفظ ’’ Trump‘‘ ہے ۔ ٹرمپ اور Tariffs کی اقتصادی تباہی کا سلسلہ جاری ہے ۔ امریکہ تجارتی معاہدہ نہیں ہوسکا ۔ اب بھی وہی صورتحال ہے جو اپریل 2025 میں تھی ۔ دوسری طرف جی ایس ٹی بھی یادوں کے معاملہ میں ایک مضبوط دعویدار رہا ، حالانکہ 8برس قبل GST متعارف کروایا گیا ، افسوس کی بات یہ ہیکہ مرکزی حکومت ماہرین کے مشورو ں اور تجاویز پر توجہ دینے سے گریز کررہی ہے ۔ اس نے ماہرین کے مشوروں کو قبول کرنے کی بجائے انہیں بری طرح نظرانداز کردیا اور اب بھی نظر انداز کررہا ہے ۔
مرکزی حکومت نے ٹیکس نظام ، ٹیکس کی شرح اور اس کی ساخت کو معقول بنانے کے بارے میں جو مشورہ دیئے گئے تھے انہیں بھی بری طرح نظرانداز کردیا گیا ۔ حد تو یہ ہیکہ جی ایس ٹی کی شرحوں کو بھی فراخدلانہ نہیں بنایا گیا ۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں انتظامی ہراسانی کا سلسلہ بھی جاری ہے ، جہاں تک جی ایس ٹی کا سوال ہے چھوٹے متوسط اور بڑے پیمانہ پر کاروبار کرنے والے تاجرین سب کے سب اس سے متاثر ہوئے ۔ تاجرین کی جو یونین اور ادارے ہیں ان تمام نے جی ایس ٹی قوانین کی تباہ کاریوں کے بارے میں کھل کر کہا ہے ۔ دوسری جانب ریٹیل استعمال کے حجم کو دیکھا جائے ٹیکس میں راحت بہت کم دی گئی ۔ Consumption میں بے تحاشہ اضافہ کی جو توقع کی گئی تھی وہ بھی پوری نہ ہوسکی جبکہ Higher Consumption صرف آبادی کے دولت مند طبقہ تک محدود رہ گیا ۔ آپ کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مرکزی حکومت اور اس کے حامی لفظ Goldilooks کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔ اس کا مطلب زیادہ شرح نمو اور کم مہنگائی ہوتا ہے ۔ یہ اصطلاح گفتگو میں تو استعمال ہوتی رہی لیکن جلد ہی منظر عام سے غائب ہوگئی ۔ یہ اصطلاع تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے بھی غیر مانوس رہی ۔ اس کے علاوہ عالمی مالیاتی ادارہ IMFنے ہندوستان کے قومی اکاؤنٹس یا کھاتو ں کی ساکھ پر سوال اٹھایا ۔ سابق چیف اکنامک اڈوائزر سے لیکر ماہرین تعلیم بالخصوص اساتذہ اور محقیقین تک کئی لوگوں نے ہندوستانی معیشت کی خامیوں اور کمزوریوں پر بات کی ۔ بالآخر روزگار کے شور نے سرکاری جشن کو ایک طرح سے پھیکا کردیا ، ہاں ایک سبق آموز حقیقت یہ بھی ہے کہ موجودہ شرح نمو پر 2025 میں امریکہ ، چین اور ہندوستان نے اپنی جی ڈی پی ( امریکی ڈالرس میں ) اس طرح اضافہ کیا ۔ مثال کے طور پر چین کی شرح نمو 2025 میں 4.8فیصد یعنی 931 ارب ڈالرس رہی ، امریکہ کی جی ڈی پی میں 1.8فیصد اضافہ کا اضافہ ہوا یعنی 551 ارب ڈالرس رہی ۔ ہندوستان کی جی ڈی پی 6.6 فیصد یعنی 276 ارب ڈالرس رہی ۔ حقیقی اجرتیں تیزی سے نہیں بڑھ پارہی ہیں ۔ ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر بھی گھٹتی جارہی ہے اور صارفین کی طلب کمزور ہوگئی ہے ۔ اس طرح حکومت اور حکومت کے حامی گولڈ لاکس کا دعویٰ کررہے ہیں وہ کھوکھلا ہے ۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ کسی زمانے میں ایک لفظ بہت زیادہ استعمال ہوا کرتا تھا اور وہ لفظ ’ سیکولر ‘ تھا ۔ یہ لفظ اب تقریباً غائب ہوچکا ہے اور ہر سال کا Non Word بن چکا ہے ۔ چند لوگ بڑے فخر کے ساتھ خود کو سیکولر قرار دیتے ہیں حد تو یہ ہیکہ ادارئیے تحریر کرنے والوں نے بھی خود کو لفظ سیکولر سے الگ تھلگ کرلیا ہے ۔ ابتداء میں سیکولر کا مطلب سیاست اور مذہب کی علحدگی تھا لیکن بعد میں اس کا مطلب و مفہوم بدل کر رہ گیا اور یہ سمجھا جانے لگا کہ ایک سیکولر شخص کی اقدار مذہبی عقائد کی بجائے عقل اور انسانی دوستی پر مبنی ہونی چاہیئے ۔ ایک بات ضرور ہیکہ سیکولرازم کے کمزور ہونے یا پسپائی اختیار کرنے کے نتیجہ میں نفرت نے جنم لیا ۔ لفظ نفرت ایک ایسا لفظ ہے جس کی ہر مذہب نے مذمت کی ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ تیزی سے پنپ رہی ہے اور میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور دوسرے کمزور طبقات پر مظالم سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہوں کہ 2025 میں نفرت شرمناک طور پر فاتح رہا ۔