واشنگٹن 19 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آج ہندوستان کی جانب سے کارپوریٹ انکم ٹیکس میں کٹوتی کرنے ہندوستان کے فیصلے کی مدافعت کی ہے اور کہا کہ اس کے سرمایہ کاری پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ آئی ایم ایف نے تاہم کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ اقتصادی استحکام پر توجہ دے اور اقتصادی حالات کو طویل وقت تک مستحکم بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ ڈائرکٹر ایشیا پیسیفک ڈپارٹمنٹ آئی ایم ایف چانگیانگ رہی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی گنجائش اب بھی محدود ہے تو ایسے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک کارپوریٹ انکم ٹیکس میں کمی کرنے کی بات ہے ہم ہندوستان کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجہ میں سرمایہ کاری پر مثبت اثرات مرتب ہونگے انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سہ ماہی میں ست رفتاری کی وجہ سے معیشت امکان ہے کہ جاریہ اقتصادی سال میں 6.1 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی اور یہ 2020 میں 7 فیصد کی شرح تک پہونچنے کی امید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی پالیسی میں رفتار پیدا کرنے کے اقدامات اور کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کے نتیجہ میںامکان ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ۔ ڈپٹی ڈائرکٹر اینی میری گلڈ وولف نے کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ نان بینک معاشی شعبہ کے مسائل پر خاص طور پر توجہ مرکوز کرے ۔ انہں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کچھ اقدامات کئے جا رہے ہیں اور بینکوں میں سرمایہ لانے کے اقدامات بھی کئے گئے ہیں تاہم نان بینکنگ معاشی اداروں کی صورتحال اب بھی غیر واضح ہے اور حکومت کو اس پر توجہ کرتے ہوئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔