ہندوستان میں کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کا خطرہ برقرار

   

سی سی ایم بی کے سائنسدانوں کا تاثر، تلنگانہ میں سخت احتیاطی تدابیر کا مشورہ
حیدرآباد: سنٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر بیالوجی
(CCMB)
کے سائنسدانوں نے کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد میں دوبارہ انفیکشن کا بڑے پیمانہ پر تجربہ شروع کیا ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں آئندہ دو ماہ کے دوران کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کا آغاز ہوسکتا ہے۔ ایسے میں تلنگانہ ریاست کو کورونا کی دوسری لہر سے بچاؤ کے سلسلہ میں سخت احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے ۔ ڈائرکٹر سی ایس آئی آر ڈاکٹر راکیش مشرا نے بتایا کہ بھوبنیشور اور اڈیشہ سے حاصل کئے گئے بعض نمونے کورونا سے متعلق غلط رپورٹ کے ساتھ پائے گئے ۔ سائنسدانوں نے کہا کہ اگرچہ صحت یاب افراد نے کورونا سے دوبارہ متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن مختلف ریاستوں میں موسمی تبدیلیوں پر اس کا انحصار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کئی ریاستوں کو دوسرے اور تیسرے مرحلہ کا خطرہ برقرار ہے اور موسم سرما میں صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔ سائنسدانوں نے کہا کہ دہلی میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ہندوستان چونکہ کثیر آبادی والا ملک ہے اور احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں شعور بیداری کی کمی ہے ، لہذا 100 سے زائد ایسے مقامات ہیں جہاں کورونا وائرس میں اضافہ یا کمی آسکتی ہے۔ ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ اگرچہ سارے ملک کے بارے میں قطعی طور پر کہا نہیں جاسکتا لیکن کئی شہروں میں کورونا کے امکانات میں اضافہ کے مراکز پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں دوسری ، تیسری یا پھر اس کے بعد بھی کورونا کی لہر آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برسوں تک عوام کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہئے جس میں ماسک کا استعمال ، سماجی فاصلہ اور ہاتھوں کی صفائی شامل ہیں۔ ملک میں کورونا ویکسن کی ایجاد کیلئے ابھی وقت درکار ہے، ایسے میں احتیاطی تدابیر اصل علاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم کی تبدیلی سے وائرس کے پھیلاؤ سے زیادہ انسان کے رویہ میں تبدیلی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ ہندوستان میں جس طرح عوام کی جانب سے عدم احتاط برتی جارہی ہے ، اس کے نتیجہ میں ملک دوسری لہر کی طرف بتدریج بڑھ رہا ہے۔ ڈاکٹر مشرا نے یوروپ میں کورونا کی دوسری لہر کے انتہائی سنگین ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا اور کہا کہ ہندوستان احتیاطی اقدامات کے ذریعہ دوسری لہر کی شدت میں کمی یا پھر اسے ٹالنے کا سامان کرسکتا ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلہ تلنگانہ میں کورونا ٹسٹوں کی تعداد ابھی بھی کم ہے۔