ہندوستان میں 55 فیصد بچوں کا مطالعہ ناقص

   

نظام تعلیم میں بہتری لانا ضروری ۔ عالمی بینک کا سروے
حیدرآباد۔18 نومبر(سیاست نیوز) ہندستان میں 55 فیصد بچے ایسے ہیں جنکا مطالعہ ناقص ہے۔ ناقص مطالعہ سے مراد یہ ہے کہ جو طلبہ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اسکے باوجود بھی 10 برس تک کی عمر تک بھی پڑھنے اور مطالعہ کی رفتارمیں بہتری نہیں ہوتی۔ ماہرین تعلیم کے مطابق جن بچوں میں 10 سال کی عمر تک مطالعہ کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے وہ بچے اپنے مضامین کو توجہ کے ساتھ پڑ ھ لیتے ہیں اور انہیں مستقبل میں دشواریاں پیش نہیں آتی بلکہ وہ دیگر طلبہ کے مقابلہ میں بہترین ثابت ہوتے ہیں۔گذشتہ دنوں منظر عام پر آئے عالمی بینک کے ہندستان کے شہری و دیہی علاقوں کے سروے کے بعد انکشاف ہوا کہ ہندستان میں مطالعہ میں کمزور طلبہ کا فیصد 55 تک پہنچ چکا ہے اسی لئے ہندستان کے تعلیمی نظام کو درست کرنے کے علاوہ بچوں کی بنیادی تعلیم کو بہتر بنانے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ حکومت کے اسکولوں میں موجود نظام تعلیم کو بہتر بنانے ضروری ہے کہ کلاس روم کے ماحول کو بہتر بنایا جائے۔ سروے کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص ایشیائی ممالک کی حالت مزید ابتر ہے لیکن ان میں ہندستان جب دنیا کے ترقی پذیرممالک کا مقابلہ کر رہا ہے تو ہندستان کو اپنے معصوم بچوں کے مستقبل کو بہتر بنا کر انہیں مستقبل کے حالات کے تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندستانی معاشرہ میں بچوں میں احساس کمتری دور کرنے تعلیمی ماحول کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ان کیلئے ماہرین کی خدمات کا حصول ناگزیر ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے جو معیار کا تعین کیا گیا ہے وہ انتہائی اہم ہے اور اس کے مطابق ترقی کی منزل طئے کرنے والوں کیلئے کئی مواقع موجود ہیں۔ مطالعہ میں بہتری لانے کلاس روم کے طلبہ میں جھجک کو دور کیا جانا اہم ہے اور وہ اسی وقت دور کی جاسکتی ہے جب بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہو اور بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے لازمی ہے کہ اساتذہ کو خصوصی تربیت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔